ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مدینہ منورہ سڑک سانحہ؛ شہید ہونےوالوں میں ایک گھرانے کے 18 افراد، حیدرآباد ماتم گاہ میں بدل گیا

Hyderabad, Talingana State, Madina road accident, tragedy
کیپشن: حیدر آباد شہر مین آج صفِ ماتم بچھی ہے؛ تلنگانہ کے دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے ایک گھرانے کی تین نسلوں کے 18 لوگ عمر کے مقدس سفر کے دوران سانحہ مین شہید ہو گئے ہیں۔

سٹی42:  سعودی عرب میں  مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانے والی سڑک پر بس کے المناک سانحہ میں شہید ہونے والوں میں حیدر آباد کی ایک ہی فیملی ک ی تین جنریشنز کے 18 افراد بھی شامل ہیں۔ حیدرآباد میں اس سانحہ پر پورے شہر میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ 
ایک ہی فیملی کے جو 18 لوگ بس کو آئل ٹینکر سے ٹکرانے کے بعد آگ لگ جانے سے شہید ہوئے ان میں  9 بچے بھی شامل ہیں۔اس الم نصیب کنبہ کے ایک رکن نے بتایا کہ ’’میری بھابھی، دیور، ان کا بیٹا، 3 بیٹیاں اور ان کے بچے عمرہ کرنے گئے تھے۔ عمرہ ہو چکا تھا اور وہ مدینہ منورہ لوٹ رہے تھے کہ یہ سانحہ ہو گیا۔
سعودی عرب میں مدینہ کے قریب شہر سے  40 کلومیٹر دور  پیش آئے المناک سڑک حادثہ میں 45 عمرہ زائرین کی موت نے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی غم و اندوہ کی لہر دوڑا دی ہے۔ شہید ہونے والوں میں سے بیشتر کا تعلق حیدر آباد سے تھا اور اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ 18 عمرہ زائرین کا تعلق ایک ہی کنبہ سے تھا۔  یعنی اس سڑک حادثہ نے اُس فیملی پر غموں کا ایسا پہاڑ توڑ دیا ہے، جو عرصۂ دراز تک بھولا نہیں جا سکے گا۔
ؓبھارت کی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد سے آ رہی میڈیا رپورٹس کے مطابق حیدر آباد میں رہائش پذیر ایک ہی فیملی  کی تین جنریشنز کے 18 افراد نے عمرہ کے مقصد سے مکہ مدینہ کا سفر کیا تھا۔ اور اب واپسی قریب تھی لیکن حادثہ کا شکار ہو گئے۔ ان 18 لوگوں میں 9 بچے بھی شامل ہیں۔ سبھی لوگ آئندہ ہفتہ کی شام گھر لوٹنے والے تھے، لیکن ان کی آمد سے قبل گھر والوں کو دردناک خبر مل گئی۔ اس کنبہ کے ایک فرد آصف نے حیدرآباد کے میڈیا کو بتایا کہ ’’میری بھابھی، دیور، ان کا بیٹا، 3 بیٹیاں اور ان کے بچے عمرہ کے لیے گئے تھے۔ وہ 8 دن قبل روانہ ہوئے تھے۔ عمرہ مکمل ہو چکا تھا اور وہ مدینہ لوٹ رہے تھے۔ رات تقریباً 1.30 بجے یہ حادثہ پیش آیا اور بس آگ میں تباہ ہو گئی۔ انھیں ہفتہ کے روز لوٹنا تھا۔‘‘
آصف کا کہنا ہے کہ اس دردناک حادثہ سے قبل وہ اپنے رشتہ داروں سے مستقل رابطے میں تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ایک ہی کنبہ کے 18 اراکین، جن میں 9 بالغ اور 9 بچے شامل تھے، سبھی جاں بحق ہو گئے۔ یہ ہمارے لیے ایک خوفناک واقعہ ہے۔‘‘ آصف نے اپنے کچھ رشتہ داروں کی شناخت نصیر الدین (70 سال)، ان کی بیوی اختر بیگم (62 سال)، بیٹے صلاح الدین (42 سال)، بیٹیوں امینہ (44 سال)، رضوانہ (38 سال) اور شبانہ (40 سال) کی شکل میں کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نصیر الدین اور ان کے خاندان کے رام نگر واقع گھر پر کوئی پڑوسی سے چابیاں لے کر آیا اور جیسے ہی ان کی بہن اپنے بھائی کے گھر میں داخل ہوئی تو زور زور سے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ پھر پورے علاقے میں یہ خبر پھیلی اور سبھی غم میں ڈوب گئے۔
 قابل ذکر ہے کہ حادثہ بس کے ایک آئل ٹینکر سے ٹکرانے کے سبب پیش آیا تھا۔ ٹکر کے بعد بس میں آگ لگ گئی، اور اس میں سوار 46 عمرہ زائرین میں سے صرف ایک کی جان بچ سکی۔ اس خوش قسمت شخص کا نام محمد عبدالشعیب بتایا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 24 سالہ عبدالشعیب بھی حیدر آباد کا باشندہ ہے۔ وہ اُس وقت بس ڈرائیور کے بغل میں بیٹھا تھا، جب تیل ٹینکر سے بس کی ٹکر ہوئی تھی۔ زخمی حالت میں اسے فوراً اسپتال میں داخل کرایا گیا، لیکن فی الحال اس کی صحت کے بارے میں زیادہ  امید افزا اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔