(خورشید رحمانی) جماعتِ اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس میں شدید احتجاج،مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو کراچی دشمن اور عوام دشمن قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کر ڈالی۔ جماعتِ اسلامی اور اپوزیشن کے دیگر اراکین کا اجلاس سے واک آؤٹ۔
جماعتِ اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے بجٹ اجلاس کے دوران شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے،شہری مسائل کے حل کے لیے فنڈز ناکافی، عوامی ضروریات کو نظرانداز کیا گیا، کراچی سندھ کی معیشت کا مرکز اور ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، بجٹ میں کراچی کے بنیادی مسائل، ٹرانسپورٹ، سیوریج، پانی، انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم کے شعبوں کو نظرانداز کیا گیا۔
انہوں نےمزید کہا کہ کراچی کے عوام سے اربوں روپے وصول کیے جاتے ہیں، ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات کی فراہمی کے وقت اس شہر کو مسلسل محروم رکھا جاتا ہے، جماعتِ اسلامی اس بجٹ کو عوامی امنگوں کے منافی سمجھتی ہے، کراچی کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، بجٹ میں مہنگائی، بےروزگاری، شہری سہولیات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی موجود نہیں۔
جماعتِ اسلامی اور اپوزیشن کے دیگر اراکین نے بجٹ کے خلاف احتجاجاً سندھ اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔