ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بلوچستان اسمبلی کا بجٹ پیش ؛  پنشن اور تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ 

بلوچستان اسمبلی کا بجٹ پیش ؛  پنشن اور تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: بلوچستان اسمبلی کا بجٹ پیش ؛  پنشن اور تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ  کردیا گیا ۔ 
 صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی بجٹ پیش کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں حکومت کا ایک اور وعدہ تکمیل ہوا،رواں مالی سال کامختص شدہ ترقیاتی فنڈ 115فیصد حصہ استعمال کیا، رواں مالی سال کا صوبے کی تاریخ میں بلند ترین استعمال شدہ فنڈ ہے،آئندہ مالی سال کے صحت کے شعبے میں 96 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،صحت کے شعبے میں ترقیاتی مد 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں،صحت کے شعبے میں عیر ترقیاتی فنڈز 90 ارب رکھنے کی تجویز ہے،محکمہ اسکول ایجوکیشن کے لیے 127 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لیے 31 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،زراعت کے شعبے کے لیے 23.6 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،صوبے میں امن و امان کے ترقیاتی فنڈ 243 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،امن و امان کے شعبے میں غیر ترقیاتی مد میں 1.2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،آئندہ مالی سال 2026-27 کا کل بجٹ حجم 1089.26 ارب روپے ہے، مالی سال 2026-27 میں کل آمدن کا تخمینہ 1134.92 ارب روپے ہے۔ 

وزیر خزانہ نے کہا بجٹ 2026-27 سرپلس بجٹ ہے، کل محصولات اور کل اخراجات کا 45.66 ارب روپے فرق ہے،وفاقی ٹرانسفرز کی مد میں 800.13 ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ ہے،صوبے کی اپنی محصولات کا ہدف 170.09 ارب روپے مقرر ہے،فارن فنڈڈ پراجیکٹس کے لیے 65.34 ارب روپے مختص ہے،پراجیکٹ فنانسنگ اور کیپٹل ریسیپٹس کا تخمینہ 68.75 ارب روپےہے ۔ کیش کیری فارورڈ کی مد میں 30.61 ارب روپے شامل ہیں،جاری اخراجات کے لیے 797.82 ارب روپے مختص کیے گئے،فارن فنڈڈ منصوبوں پر 40.38 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے،وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 44.56 ارب روپے مختص ہے،صوبائی پی ایس ڈی پی کا حجم 206.61 ارب روپے مقرر ہے ۔ آئندہ مالی سال کا سرپلس بجٹ مالی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے،ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کا مجموعی حجم 1089.26 ارب روپے مقرر ہے ۔ آمدن اور اخراجات میں 45.66 ارب روپے کا مثبت فرق برقرار رکھنے کا ہدف مقرر ہے ۔ تعلیمی خدمات پر زیرو سیلز ٹیکس مقرر کر دیا گیا۔

رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے جائداد کی منتقلی پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس اور سٹام ڈیوٹی کی شرح 2 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کردیا،بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ فنڈ کے ذریعے مستحق طلبہ کی معاونت کیلئے 2.82 بلین مختص ہیں،بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کیلئے 1.5 بلین مزید اضافہ کردیا ہے،خواتین کی معاشی خود مختاری کو فروغ دینے کیلئے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے،شہید بینظیر بھٹو سکالرشپ کیلئے 54 ملین روپے مختص ہے۔

بلوچستان کی نواجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے 5 ہزار نئی آسامیاں مختلف سرکاری محکموں میں تخلیق کی جائیں گی،بلوچستان کے صوبائی حکومت نے مالی مشکل حالات کے باوجود وفاق کی طرز پر تنخواہوں اور پینشن میں 7 فیصد اضافہ کردیا،یہ بجٹ ٹیکس فری بجٹ ہے، جس میں کوئی نیا ٹیکسز نافذ نہیں کیا ہے۔