(ایم وقار)’’ابتدا ہے ربِ جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھیدخوب جانتا ہے،دیکھتی آنکھوں سُنتے کانوں آپ کوطارق عزیزکاسلام پہنچے‘‘یہ الفاظ آج بھی ایک نسل کے ذہنوں میں تازہ ہیں جنہیں سُنتے ہی معروف براڈکاسٹر،کمپیئراورہمہ جہت شخصیت کے مالک طارق عزیز کی یادآجاتی ہے،انہیں پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی آواز ہونے کااعزاز بھی حاصل تھاجسے خاموش ہوئے چھ برس بیت گئے ہیں۔
طارق عزیزنے سوگواروں میں ایک بیوہ ڈاکٹرحاجرہ طارق عزیزچھوڑی ہیں جوہرسال اپنے شوہرکی برسی پرتقریب کاانعقادکرکے ان سے اپنی عقیدت کااظہارکرتی ہیں۔
28 اپریل 1936ء کوہندوستان کے غیرمُنقسم صوبہ پنجاب کے شہرجالندھرمیں ایک آرائیں گھرانے میں پیدا ہونے والے طارق عزیزکے والدمیاں عبدالعزیز تحریکِ پاکستان کے پُرجوش کارکنان میں سے تھے اورانہوں نے 1937ء میںقیام پاکستان سے قبل ہی اپنے نام کے ساتھ’’پاکستانی‘‘ لگانا شروع کردیا تھااور’’عبدالعزیزپاکستانی‘‘ بن گئے تھے،قیامِ پاکستان کے وقت طارق عزیز اپنے والدین کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اورساہیوال میں سکونت اختیارکی،اپنی ابتدائی تعلیم ساہیوال میں ہی حاصل کی،1950ء کی دہائی میں ریڈیو پاکستان لاہور سے فنّی سفرکاآغاز کیااوران کا لب ولہجہ اورتلفظ آخری وقت تک ان کی پہچان رہا۔
26 نومبر1964 بروزجمعرات کوجب پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات شروع ہوئیں توان کی آواز سب سے پہلے پی ٹی وی سے گونجی،خواتین میں یہ اعزاز کنول نصیر کے حصہ میںآیاتھا۔طارق عزیزمرتے دم تک وہ پی ٹی وی سے ہی وابستہ رہے,1975ء میں شروع ہونے والے شو’’نیلام گھر‘‘نے شُہرت کی بلندیوں پرپہنچادیاجو بعد میں’’طارق عزیزشو‘‘اور’’بزم طارق عزیز‘‘کے نام سے بھی پیش کیاجاتارہا،ان کاپروگرام شروع کرنے کا انداز’’دیکھتی آنکھوں،سُنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے‘‘بہت مشہور ہوا تھا۔
ان کا منفرد پُرجوش انداز،بہترین تلفظ کے ساتھ اُردوالفاظ کی ادائیگی،برجستہ اشعار پڑھنے کا انداز اور پروگرام کے آغاز میں تعارفی کلمات اورآخر میں’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگانے کا انداز یہ وہ خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے ناظرین ان کے پروگرام اور ان کی شخصیت کے دلدادہ تھے،یہ ان کی شخصیت کاایک پہلوتھا،وہ اس کے ساتھ ساتھ صداکار،اداکار،سیاستدان،ناشراورشاعربھی تھے،ان کے کالموں کا مجموعہ ’’داستان‘‘اورپنجابی شاعری کا مجموعہ’’ہمزاد دا دُکھ‘‘کے نام سے شائع ہوا تھا،خود شاعری کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف شعراء کے ہزاروں کی تعداد میں شعر ازبرتھے جو وہ اپنے پروگرام میں گاہے بگاہے سناتے رہتے تھے،ان کامطالعہ بہت وسیع تھا۔
پی ٹی وی کے آغازمیں طارق عزیزنے اداکاری اورکمپیئرنگ کے ساتھ ساتھ براہِ راست نشر ہونے والے کچھ ڈراموں میں ہدایت کاری کے فرائض بھی بخوبی انجام دیئے،کئی فلموں میں بھی اداکاری کی،ان کی سب سے پہلی فلم شباب کیرانوی کی’’انسانیت‘‘تھی جو 1967ء میں سینمائوں کی زینت بنی جس کے بعد1969ء میں ان کی دوسری فلم ’’سالگرہ‘‘ریلیز ہوئی جو اپنے دور کی کامیاب فلم تھی،طارق عزیز نے اس فلم میں جج کا کردارکیا تھا،اس کے بعدطارق عزیز نے قسم اس وقت کی،کٹاری،چراغ کہاں روشنی کہاں اورہارگیا انسان جیسی فلموں میں بھی اداکاری کے جوہردکھائے ۔
1980ء کی دہائی میں انہوں نے کراچی میں طویل قیام کے دوران دو رسالے ’’پندرہویں صدی‘‘ اور’’بچوں کا رسالہ‘‘بھی نکالاجومعیاری ہونے کے باوجود ناتجربہ کاری کے باعث بندہوگئے۔کراچی میںقیام کے دوران ہی انہوں نے ڈاکٹرحاجرہ سےشادی کی لیکن اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔انہوں نےاپنی جائیداداوردولت ریاست پاکستان کے نام کردی تھی۔
براڈکاسٹنگ،کمپیئرنگ اور ٹی وی کے شعبے میں ان کی گراں قدر خدمات پرانہیں 1992ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازاگیاتھا،اس کے علاوہ بھی بے شمارایوارڈز ان کے حصّے میں آئےمگر ان کا اصل اعزاز مداحوں کے دل میں ان کے لیے محبت اور احترام کے جذبات تھے ۔
وہ1997ء میں مسلم لیگ (ن)کے ٹکٹ پرلاہور سے رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے تھے اورانہوں نےبانی پاکستان تحریک انصاف کوہرایاتھا جن کا یہ پہلا الیکشن تھا۔