سٹی 42: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔وزیر اعظم نے کہا کاروبار میں آسانی کیلئے حکومت کے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ میں تیزی لائی جائے.
وزیرِ اعظم نے حکم دیا کاروبار میں آسانی کے اقدامات کی افادیت اور نفاذ کی جانچ کیلئے بین الاقوامی اداروں سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے.پاکستان میں مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کی وسیع استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے. کاروبار میں آسانی کیلئے پالیسی اقدامات کے نفاذ پر جامع رپورٹ مرتب کرکے جلد پیش کی جائے.کاروبار میں آسانی کیلئے قانون و پالیسی سازی پر وزرات قانون و انصاف، ایس آئی ایف سی، سرمایہ کاری بورڈ، وزارت کامرس، وزارت صنعت اور تمام متعلقہ اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں.
اجلاس کو اقدامات کے نفاذ پر جائرے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی.
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں کاروبار میں آسانی کیلئے مختلف ضوابط اور کاغذی کاروائیوں و منظوریوں کو کم کرنے کے حوالے سے 558 اصلاحات پر کام مکمل ہو چکا جس میں سے 71 پالیسی اقدامات کا نفاذ ہو چکا جبکہ 272 کے نفاذ پر کام تیزی سے جاری ہے. 7 مرحلوں میں مختلف شعبوں میں ان کا نفاذ کیا جارہا ہے. ان اقدامات کی بدولت کاروباری برادری کو مختلف ضابطوں و شرائط پر خرچ ہونے والی بچت کی رقم کا تخمینہ 468.7 ارب روپے ہے.
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ غیر ضروری و پیچیدہ کاغذی کاروائی اور ضوابط کے خاتمے سے برآمدات میں اضافہ، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے.
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے افسران کی کارکردگی کی جانچ میں انکی جانب سے کاروبار میں آسانی کے اقدامات کے نفاذ اور اسکی وجہ سے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کو کلیدی اہمیت دی جائے.
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، قیصر احمد شیخ، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، معاون خصوصی ہارون اختر، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شعبے کے ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی.