ویب ڈیسک: ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت کے بعد ان کے والدین نے خاموشی توڑتے ہوئے واقعے کو محض حادثہ قرار دینے سے انکار کر دیا ہے اور بیٹی کے قتل کا شبہ ظاہر کیا ہے۔
حمیرا اصغر کے والد، ڈاکٹر اصغر علی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میڈیا پر یہ تاثر غلط دیا گیا کہ انہوں نے بیٹی کی لاش وصول کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جیسے ہی قانونی کارروائی مکمل ہوئی، انہوں نے اپنے بیٹے کو فوری طور پر کراچی بھیجا تاکہ لاش وصول کی جا سکے۔
ڈاکٹر اصغر نے کہا کہ وہ خود کراچی نہیں جا سکے مگر دستیاب معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ واقعہ کسی خوفناک واردات کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے سندھ پولیس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کو ذمہ دارانہ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ انصاف ضرور ملے گا۔
انہوں نے حمیرا کی مالی حالت سے متعلق خبروں کو بھی رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی ایک خودمختار اور معاشی طور پر مضبوط خاتون تھیں۔ ان کے کمرے سے قیمتی ملبوسات اور دیگر اشیاء بھی برآمد ہوئیں۔ اگر کسی بل یا کرایے کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی ہے تو وہ یقینی طور پر موت کے بعد کی صورتحال ہے۔
حمیرا کی والدہ کے مطابق اگست 2024 کے آخر میں ان کی بیٹی سے آخری بار بات ہوئی تھی۔ اُس وقت حمیرا نے بتایا کہ اس کی موبائل سمز بلاک ہو رہی ہیں اور کوئی اسے ہراساں کر رہا ہے، تاہم اس نے مزید تفصیل نہیں دی۔ کچھ دن بعد اُس کا فون بند ہو گیا، اور وہ مسلسل کوشش کے باوجود بیٹی سے رابطہ نہ کر سکیں۔ بعدازاں ایک دن اچانک ٹی وی پر اس کی موت کی خبر دیکھی، جو ان کے لیے ناقابلِ یقین صدمہ تھا۔
ڈاکٹر اصغر علی نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ حمیرا کے اپنے خاندان سے تعلقات خراب تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حمیرا ہر دو سے تین ماہ بعد گھر آتی تھیں اور مسلسل رابطے میں رہتی تھیں۔ وہ فنونِ لطیفہ سے دلچسپی رکھتی تھیں، این سی اے میں تعلیم حاصل کی اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی، جس پر انہوں نے ہمیشہ بیٹی کی حوصلہ افزائی کی۔