ویب ڈیسک: دنیا کے سب سے بڑے یوٹیوبر مسٹر بیسٹ (جمی ڈونلڈسن) نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ ان کی مجموعی دولت کا تخمینہ 2.6 بلین ڈالر لگایا جاتا ہے، لیکن ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں تقریباً کوئی کیش موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ قرض لے کر اخراجات پورے کرتے ہیں اور اگر کمپنی کے شیئرز کو نکال دیا جائے تو عام لوگوں کے پاس ان سے زیادہ کیش ہو سکتا ہے۔
یوٹیوب پر ان کے چینل کو اب تک 107 بلین سے زائد ویوز ہیں جبکہ کل سبسکرائبرز 459 ملین ہو چکے ہیں۔ جس نے انہیں دنیا کے سب سے کامیاب تخلیق کاروں میں شامل کر دیا ہے۔

مسٹر بیسٹ کی دولت زیادہ تر ان کی کمپنی بیسٹ انڈسٹریز اور دیگر کاروباروں جیسے MrBeast Burger اور چاکلیٹ برانڈ سے جڑی ہوئی ۔ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی۔ کئی صارفین نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ برگر نہیں خرید سکتے تو پھر پورا میکڈونلڈز بھی نہیں خرید سکتے، اور کچھ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کاش ہم بھی ایسے "غریب" ہوتے۔ دوسری جانب کچھ لوگوں نے وضاحت کی کہ ارب پتی افراد اکثر اپنے اثاثوں کو ضمانت بنا کر قرض لیتے ہیں تاکہ ٹیکس سے بچ سکیں، اور یہ طریقہ کار دنیا بھر کے امیر طبقے میں عام ہے۔

مسٹر بیسٹ نے مزید کہا کہ دولت صرف کاغذی حساب ہے، اصل زندگی میں یہ اتنی قابلِ استعمال نہیں جتنی لوگ سمجھتے ہیں۔ یہ بحث ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا نیٹ ورتھ حقیقی دولت کی عکاسی کرتا ہے یا صرف کاغذی اعداد و شمار ہیں۔