ملک اشرف : اعلی ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کے خلاف دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کی گزشتہ سماعت کا چار صفحات پر مشتمل تحریری عبوری حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ تحریری حکم جسٹس علی ضیاء باجوہ نے جاری کیا۔
عبوری حکم میں عدالت نے واضح کیا ہے کہ عدالتی فیصلوں یا ممکنہ غلطیوں پر تنقید آئینی طور پر جائز ہے، تاہم ججز کی دیانت داری پر حملہ، عدلیہ کو متنازع بنانے اور عوامی اعتماد کو کمزور کرنے والی مہم ناقابلِ برداشت ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی تنقید جو عدلیہ کی آزادی اور اختیار کو متاثر کرے، اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے اور میڈیا کو بھی آزادی حاصل ہے، لیکن یہ تمام آزادی آئین اور قانون کی عائد کردہ حدود کی پابند ہے۔ عبوری حکم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عدلیہ کو بدنام کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی گئی، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ کسی کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بنایا جائے۔عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ،این سی سی آئی اے، نے عدلیہ کو بدنام کرنے والے افراد سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی ہے، جبکہ این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق توہین آمیز مواد میں ملوث ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔کیس کی مزید سماعت 22 جنوری کو ہوگی۔