نام نہاد محبت کو لے کر کئی ماہ تک پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کو مصروف رکھنے والی امریکی خاتون نے دبئی پہنچتے ہی دبئی والوں کو مصروف کر لیا۔
امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن کئی ماہ تک پاکستان مین کراچی شہر مین رہی، تب اس کا کہنا تھا کہ وہ ایک پاکستانی شہری کی محبت مین گرفتار ہے ور اس کے ساتھ شادی کرنے کے لئے پاکستان آئی ہے، لیکن وہ شخص اب اس کے ساتھ شادی کرنا نہین چاہتا۔ اس خاتون کے پاکستان مین قیام کے ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کی کہانی جدید زمانہ کی لوک داستان بن گئی اور سوشل پلیٹ فارمز پر بہت زیادہ ڈسکس ہوئی۔ اس دوران اس خاتون کو سہولت کے ساتھ پاکستان سے واپس بھجنے کی کوشش مین پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہت مشکلات پیش آئین اور سوشل پلیٹ فارمز پر تنقید کا بھی نشانہ بننا پرا۔
پاکستانی لڑکے کی مبینہ محبت میں مبتلا امریکی خاتون کراچی میں لگ بھگ 4 ماہ تک رہ کر گزشتہ دنوں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے براستہ دبئی امریکا کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ اپنے پاکستان مین کئے ہوئے اعلان کے عین مطابق وہ وطن واپس لوٹنے کے بجائے دبئی میں ہی رک گئیں، اس دوران ان کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھیں۔
اونیجا اینڈریو رابنسن 7 فروری کی رات کراچی سے پرواز ای کے 603 سے دبئی پہنچی تھیں، اب معلوم ہوا ہے کہ انہیں دبئی میں حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
خاتون کو ٹکٹ اور بورڈنگ دستاویزات کے مطابق دبئی سے پرواز ای کے 203 سے نیویارک جانا تھا مگر خاتون نے یہ پرواز جان بوجھ کر چھوڑ دی، اونیجا امریکی شہری ہونے کی وجہ سے آن ارائیول ویزے پر دبئی میں چلی گئی تھیں۔
ذرائع کے مطابق اونیجا کی فیملی کے لوگ نیویارک میں اونیجا کے پہنچنے کا انتظار کر رہے تھے مگر وہ متوقع فلائٹ سے نیویارک نہین پہنچیں تو امریکی حکام کی جانب سے خاتون کی تلاش شروع کی گئی۔
ذرائع کے مطابق دبئی کی سڑکوں پر ویڈیوز سامنے آنے پر امریکی ادارے حرکت میں آئے اور اماراتی حکام سے رابطہ کیا جس پر خاتون کی آمدورفت محدود کرکے اسے حراست میں لے لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اونیجا کو دبئی سے امریکا بھیجنا پھر مسئلہ بن رہا ہےکیونکہ خاتون نے کسی قانون کی وائلیشن نہیں کی۔ وہ وزٹ ویزا پر ہیں اس لیے انہیں زبردستی نہیں بھیجا جا سکتا، کسی وجہ سے اگر خاتون کو دبئی سے ڈی پورٹ بھی کیا جائے تو کوئی ائیر لائن یا پائلٹ بظاہر 'ابنارمل' خاتون کو 15 گھنٹے طویل پرواز میں لے جانے پر آمادہ نہیں ہو گی۔
ممکنہ طور پر خاتون کو از خود نیویارک کے سفر کے لیے راضی کرکے ہی امریکا بھیجا جا سکتا ہے۔