سٹی42: پٹنہ میں سرکاری تقریب میں نوکری کا تقرر نامہ لینے کیلئے آئی خاتون کے چہرے سے نقاب کھینچنے والے وزیر اعلیٰ کے خلاف مقدمہ بنانے کا مطالبہ عوامی مطالبہ بن گیا تاہم بھارت کی ہندوتوا پرست مرکزی حکومت خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے کیونکہ رزیل حرکت کرنے والا وزیراعلیٰ نتیش نریندر مودی کا اتحادی ساتھی ہے۔
مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے پر ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف ہراسمنٹ کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ صرف مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ بھارت کی ہندوتوا پرست بی جے پی اور اس کے بعض اتحادیوں کے سوا بھی کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔
ریاست بہار کے دارالھکومت پٹنہ میں بی جے پی کے اتحادی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب میں مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب زبردستی کھینچ کر نوچ لیا تھا اور اس کے چہرے پر گھتیا مسکراہٹ تھی۔ اس حرکت پر اس کے ساتھی بھی بے شرمی کے ساتھ ہنستے رہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں روایتی اور دیسی طریقہ علاج کی وزارت 'آیوش' کی جانب سے آیوش ڈاکٹروں کو ملازمت کا تقرر نامہ(Appointment Letter) دینے کی تقریب تھی جس میں حال ہی مین پیسے لتا کر خریدے گئے الیکشن میں دوبارہ وزیراعلیٰ بننے والا نریندر مودی کا اتحادی نتیش دیسی طریقہ علاج کے تربیت یافتہ ڈاکٹروں کو سرکاری نوکری کے تقرر نامے بانٹنے کے لئے آیا تھا۔
نتیش کی اس رزیل حرکت بھارت کی ہندوتوا پرست جماعت کی سوا تمام سیکولر سیاسی رہنماؤں، فنکاروں، صحافیوں اور انسانی حقوق تنظیموں نے شرمناک قرار دیا ہے۔
نقاب کھینچنے پر بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف ہراسمنٹ کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے لیکن مرکزی حکومت اور بھارت کی عدلیہ خاموش ہے۔
اپوزیشن پارٹی کانگریس نےآج کہا کہ نتیش کمار کی بے شرمی دیکھیں اپائنٹمنٹ لیٹر لینے آئی خاتون ڈاکٹر کا حجاب اتار دیا۔ یہ بدتمیزی ناقابلِ معافی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جو خود بھی کشمیر میں نریندر مودی کی اتحادی ہے، اس نے کہا کہ نتیش کمار کو فوری مستعفی ہونا چاہیے۔
بہار کی اپوزیشن سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادیو نے کہا کہ نتیش کمار کا یہ اقدام شرمناک ہے۔
مشہور صحافی محمد زبیر نے کہا کہ حواسوں میں ہوتے تو نتیش کمار ایسا نہ کرتے۔
صحافی، اشوک سوائن نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ مودی کے بھارت میں بدتمیزی اور اسلامو فوبیا کو سرکاری منظوری حاصل ہوگئی ہے۔
اس کےعلاوہ انسانی حقوق کی کارکن دپیکا پشکر ناتھ نے اسے جنسی ہراسانی کا سنگین واقعہ قرار دیا۔