سٹی 42: اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی زیر صدارت پیغامِ امن کمیٹی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں محرم الحرام کے دوران بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں علامہ طاہر محمود اشرفی، سینیٹر حافظ عبد الکریم، مفتی عبد الرحیم، علامہ عارف حسین واحدی، پیر نقیب الرحمٰن، علامہ محمد حسین اکبر، ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی، مولانا طیب پنج پیری، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، بشپ آزاد مارشل، راجیش کمار ہرداسانی، سردار رمیش سنگھ اروڑا سمیت صوبائی اور علاقائی پیغامِ امن کمیٹیوں کے کوآرڈینیٹرز اور منظور شدہ مدارس بورڈز کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور، سیکرٹری اطلاعات، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد پولیس بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی، نفرت انگیز مواد اور فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے گی۔ شرکا نے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ علما کے ساتھ مضبوط اور مستقل رابطہ وزارت داخلہ کی ترجیحات میں شامل ہے اور پیغامِ امن کمیٹی کو ضلعی سطح تک فعال اور مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیغامِ امن کمیٹی کیلئے ایک رابطہ کار بھی مقرر کیا جائے گا تاکہ مختلف مکاتب فکر اور حکومتی اداروں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنائے جا سکیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف قرآن و حدیث کی روشنی میں عوامی آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے علما کرام پر زور دیا کہ وہ اسلام میں ریاست کے خلاف بغاوت اور فساد کی ممانعت کے حوالے سے عوام کی رہنمائی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ محرم الحرام میں امن و امان کا قیام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف نے قیادت کا کردار ادا کیا جبکہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے ایک کپتان کے طور پر عملی میدان میں کلیدی کردار نبھایا۔ انہوں نے کہا کہ باقی تمام افراد نے ٹیم کے کھلاڑیوں کی طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پایا۔
محسن نقوی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوران فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر وہ شخصیت تھے جن پر تمام فریقوں کو اعتماد حاصل تھا۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک نے بھی مذاکراتی کوششیں کیں لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ ان کے بقول فیلڈ مارشل نے امن کے قیام کیلئے دوٹوک مؤقف اپنایا، غلطیوں کی نشاندہی کی اور ان کی صاف گوئی نے فریقین کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ مذاکرات کے ایک مرحلے پر جنگ بندی کے خاتمے میں چند گھنٹے باقی تھے اور معاملات تعطل کا شکار تھے، تاہم فیلڈ مارشل کی مداخلت کے بعد پیش رفت ممکن ہوئی اور مذاکرات دوبارہ آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے دوران بھی اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال رہی اور بعض واقعات نے اس یقین کو مزید مضبوط کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا مذاکرات کے دوران بھی کئی مواقع پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے معاملات قابو میں رہے۔ ان کے مطابق اس پورے عمل میں قیادت نے کلیدی کردار ادا کیا جبکہ ٹیم کے تمام اراکین نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
اجلاس کے دوران علما کرام نے امن معاہدے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پیغامِ امن کمیٹی کا کردار قابل تحسین ہے اور ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کیلئے اس فورم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر ملک کی سلامتی، استحکام، قومی یکجہتی اور امن و امان کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔