سٹی 42: اینکر جمیل فاروقی پر بیوی کو حبس بے جا میں رکھنے اور تشدد کے الزامات پراینکر جمیل فاروقی کا موقف سامنے آگیا ۔
جمیل فاروقی نے بیوی کو حبس بے جا میں رکھنے اور تشدد کی تردید کر دی۔جمیل فاروقی نے کہا واقعہ صبح ساڑھے دس بجے پیش آیا میری بیوی کے 16 سے 17 رشتہ داروں نے مجھ پر میرے گھر آکر حملہ کیا، لڑکی کے والدین پولیس کو بھی ساتھ لے کر آئے تھے ۔ تشدد کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی، میری بیوی 2ماہ کی حاملہ ہیں، مجھے ڈاکٹرز کی طرف سے اس کا خیال رکھنے کا کہا گیا تھا۔
لڑکی اپنے والدین سے رابطے میں تھی، عید پر لڑکی کے والدین میرے گھر بھی آئے تھے۔میری عائشہ نامی خاتون سے شادی 12فروری کو ہوئی۔میری پسند کی شادی تھی، اور عائشہ کو میں نے کہا تھا کہ فیملی کو بھی بتائیں۔شادی کے وقت سب گھر والے موجود تھے، 13فروری 2026 کو اسلام آباد میں نکاح کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔
کورٹ میں میرے خلاف جھوٹی گواہی دی گئی ہے۔عائشہ چار سال سے ڈپریشن سے نجات کے لیئے گولیاں کھا رہی تھیں ۔واقعہ سے دو دن قبل بھی لڑکی کے والدین تین رشتہ داروں کے ہمراہ گھر پر آکر واویلا کر کے گئے تھے۔
واضح رہے عدالت کے حکم پر خاتون کو بازیاب کروایا گیا اور عدالت میں خاتون نے حبس بے جا اور تشدد کا الزام لگایا تھا جس کے بعد عدالت نے خاتون کو والدین کے ساتھ بھیج دیا ۔