لاہور کی فضا میں دھند صرف موسم کا مسئلہ نہیں رہی، یہ ہماری ترجیحات، پالیسیوں اور عملدرآمد کی کمزوریوں کی علامت بن چکی ہے۔ حالیہ سماعت میں لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس شاہد کریم کے ریمارکس نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو نمایاں کر دیا کہ ہم مسائل کو سمجھنے کے باوجود ان کے حل میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔
عدالت کی جانب سے ٹریفک پولیس کے شہریوں کو غیر ضروری طور پر روکنے پر اظہارِ ناراضگی بظاہر ایک معمولی انتظامی معاملہ لگ سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ شہری آزادیوں، ماحولیاتی آلودگی اور گورننس کے بڑے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ بغیر کسی خلاف ورزی کے شہریوں کو روکنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ بنیادی شہری حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ سڑک پر چلنے والا ہر شہری اس حقیقت سے واقف ہے کہ کئی مواقع پر ٹریفک پولیس کی جانب سے بلا جواز روک ٹوک کی جاتی ہے، جس کا نہ کوئی واضح قانونی جواز ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلتا ہے۔ الٹا، اس عمل سے ٹریفک جام بڑھتا ہے، ایندھن کا ضیاع ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر سموگ میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹریفک مینجمنٹ کا مقصد قانون کی عملداری ہے یا محض چیکنگ کے نام پر رکاوٹیں کھڑی کرنا؟ اگر ٹریفک پولیس واقعی خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑنے میں ناکام رہتی ہے، جیسا کہ عدالت نے ریمارکس دیے، تو پھر موجودہ حکمت عملی پر سنجیدہ نظرثانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب عدالت نے شیرانوالہ گیٹ اور ٹیکسالی گیٹ منصوبوں پر حکمِ امتناعی میں توسیع کر کے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ترقیاتی منصوبے ماحولیاتی اور تاریخی تقاضوں کو نظر انداز کر کے نہیں چل سکتے۔ لاہور ایک تاریخی شہر ہے، اور اس کے دروازے صرف اینٹوں اور پتھروں کے ڈھانچے نہیں بلکہ ہماری شناخت کا حصہ ہیں۔
سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ واسا کی رپورٹ کے مطابق عدالتی احکامات کے باعث پانی کی سطح میں کمی کی رفتار کم ہوئی ہے، مگر یہ بہت معمولی پیش رفت ہے۔ ایک سال میں صرف ایک سینٹی میٹر کمی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے مسئلہ حل کر لیا، بلکہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہمیں ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔
عدالت نے بجا طور پر اس امر پر زور دیا کہ زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اگر آج ہم نے پانی کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل یہ بحران ناقابلِ واپسی ہو سکتا ہے۔
ماحولیاتی کمیشن کی جانب سے نورپور خوشاب میں سڑک کی تعمیر کے دوران 11 ہزار درختوں میں سے 8 ہزار کو بچانے کے لیے منصوبے کو ری ڈیزائن کرنا ایک مثبت قدم ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات مستقل پالیسی کا حصہ ہیں یا محض عدالتی دباؤ کا نتیجہ؟ اگر ہر منصوبے کو بچانے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے تو پھر اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ضرور اٹھتا ہے۔
اسی طرح شیخوپورہ کے بھٹوں سے متعلق رپورٹ میں خلاف ورزی نہ ہونے کا دعویٰ اپنی جگہ، مگر عدالت کا یہ کہنا کہ سموگ سے پہلے محکمہ ماحولیات کو فعال ہونا چاہیے، ایک حقیقت پسندانہ تنبیہ ہے۔ ہمارے ہاں اکثر اقدامات مسئلہ پیدا ہونے کے بعد کیے جاتے ہیں، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پیشگی حکمت عملی اپنائی جائے۔
پی ایچ اے کے حوالے سے عدالت کے ریمارکس بھی نہایت اہم ہیں۔ درختوں کی منتقلی (ٹرانسپلانٹیشن) اور گرین بیلٹس کے تحفظ کے لیے سائنسی بنیادوں پر پالیسیاں بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ماحولیاتی ادارے محض ریونیو جنریشن تک محدود ہو جائیں تو پھر ماحول کا تحفظ ایک ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔
یہ تمام نکات ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں: ہمارے ادارے ردعمل (reaction) پر چل رہے ہیں، پیش بندی (proactive planning) پر نہیں۔ جب تک ہم اس سوچ کو تبدیل نہیں کرتے، سموگ، پانی کی قلت اور شہری مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جائیں گے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عدالت کا کردار ایک رہنما کا ہے، جو بار بار اداروں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلا رہی ہے۔ مگر ایک مہذب معاشرے میں اصل ذمہ داری اداروں کی ہوتی ہے کہ وہ خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہوئے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کریں۔
اگر ٹریفک پولیس شہریوں کو غیر ضروری طور پر روکنے کے بجائے قانون کی حقیقی عملداری پر توجہ دے، اگر ماحولیاتی ادارے وقتی اقدامات کے بجائے پائیدار پالیسیوں کو اپنائیں، اور اگر ترقیاتی منصوبوں میں ماحول اور تاریخ کا خیال رکھا جائے—تو شاید لاہور ایک بار پھر سانس لینے کے قابل شہر بن سکے۔
ورنہ، عدالتوں کے ریمارکس فائلوں میں دب کر رہ جائیں گے اور شہری سڑکوں پر، دھوئیں میں، اسی طرح رکے رہیں گے۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App