ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہندوتوا کے جنونی متاثرین اب شہنشاہ اورنگزیب کے مقبرہ کو اکھاڑنے کے درپے

Aorangzaib Alamgir, Hindutva, City42
کیپشن: اورنگ زیب عالم گیر کا اورنگ آباد ضلع میں واقع مقبرہ اب ہندوتوا کے جنونی متاثرن کا نیا ٹارگٹ ہے، وہ اس مقبرہ کو گرا کر اپنی ہی تاریخ کو مزید مسخ کرنا چاہتے ہیں۔
 ہندوتوا کے جنونی متاثرین اب شہنشاہ اورنگزیب کے مقبرہ کو اکھاڑنے کے درپے
Aorangzaib Alamgir, Hindutva, City42
 ہندوتوا کے جنونی متاثرین اب شہنشاہ اورنگزیب کے مقبرہ کو اکھاڑنے کے درپے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  ہندوتوا کے جنونی پرچارک انڈیا مین مسلمانوں کی کئی تواریخی عمارات کے بعد اب شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے مقبرہ کے پیچھے پڑ گئے۔  وشوا ہندو پریشد  وی ایچ پی اور بجرنگ دل کی دھمکیوں کے بعد اورنگ زیب کے مقبرہ پر سیکورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اورنگ زیب عالمگیر انڈیا کی مغل ایمپائر کے وہ شہنشاہ تھے جن کی حکومت میں دہلی حکومت پہلی بار دکن  سے پرے  اور مہاراشٹر کے ساحلوں تک  پھیلی اور سارا انڈیا ایک سلطنت شمار ہوا۔ اورنگ زیب نے مرہٹوں کو مین لینڈ ہندوستان کا حصہ بنایا تھا، آج  نام نہاد قوم پرست صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کے مزار کو گرانے کے درپے ہیں حالانکہ انڈیا کو اکھنڈ کرنے والے کوئی ہندوتوا کے مارے  سنیاسی، یوگی نہیں تھے، یہ اورنگزیب ہی کا کارنامہ تھا۔

اورنگ زیب عالم گیر کے والد شاہ جہاں نے لاہور کا قلعہ تعمیر کیا تھا، بادشاہی مسجد تعمیر کی تھی، شالامار باغ بھی انہی کا تعمیر کروایا ہوا ہے۔ عالم گیر نے اپنی زیادہ توجہ انڈیا کے جنوبی علاقوں کو سلطنت میں شامل کرنے اور دہلی کا کنٹرول ان علاقوں پر مستحکم کرنے پر رکھی اس لئے وہ لاہور کی طرف کم ہی آتے تھے۔

۔ اورنگ زیب کا  مقبرہ اورنگ آباد سے 24 کلومیٹر (15 میل) دور اورنگ آباد ضلع کے شہر خلد آباد میں واقع ہے۔ یہ شیخ زین الدین کی درگاہ کے احاطے کے جنوب مشرقی کونے میں واقع ہے۔ اورنگ زیب کے خوبصورت مقبرے کے چاروں طرف سنگ مرمر کی جالی (جالی دار سکرین)  لگی ہے۔

مقبرہ کو تباہ کرنے کی دھمکیوں کے پیش نظر ضلع اورنگ آباد کی پولیس کے افسروں نے ہفتے کے روز مقبرہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس دوران ایس آر پی کی ایک کھیپ کو تعینات کیا گیا ، جبکہ مقامی پولیس کی سیکورٹی پہلے سے موجود ہے۔

مقبرہ کی حفاظت کے لئے انسپکٹر سطح کے دو سینئر افسران 24 گھنٹے ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مقبرہ کی طرف جانے والی سڑک پر دو مقامات پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور دو فکس پوائنٹس بھی بنائے گئے ہیں۔ مقبرہ پر آنے والے ہر شخص کی تلاشی لی جارہی ہے اور پھر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

یہ قدم سیکورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ بتادیں کہ حال ہی میں شہنشاہ اورنگ زیب کو لے کر ا وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کی جانب سے نیا تنازعہ کھرٓ کیا گیا اور اس مقبرہ پر  انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے  کار سیوا کرنے کی وارننگ کے بعد اورنگ زیب کے مقبرے کی حفاظت کو بڑھا دیا گیا ہے۔ مقبرہ پر آنے والے ہر شخص کو چیک کیا جا رہا ہے اور پھر  آگےجانے دیا جا رہا ہے۔ سینئر پولیس حکام نے اورنگ زیب کی آخری آرامگاہ  خلد آباد مقبرہ کا دورہ بھی کیا۔

ہندوتوا کے مارے لوگوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ھکومت کے ذریعہ اورنگ آباد کا نام بدلوا کر اس کا نام " چھترپتی سمبھاجی نگر" رکھوا دیا، لیکن نام بدلنے سے کچھ نہین بدلا، ان کے جنون کی تسکین نام بدلنے سے نہ ہوئی تو اب وہ مقبرہ کو ہی اکھاڑ ڈالنے کے درپے ہیں۔ 


اس سلسلہ میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے 10 مارچ کو کہا تھا کہ "سب کا ماننا ہے کہ چھترپتی سمبھاج نگر میں واقع مغل بادشاہ اورنگ زیب کے مقبرے کو ہٹا دیا جانا چاہئے، لیکن ایسا قانون کے دائرے میں ہونا چاہئے،"  کیونکہ پچھلی کانگریس حکومت نے اس جگہ کو آثار قدیمہ کے سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے تحفظ کے تحت دیدیا تھا۔