ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں شہری کی عدم بازیابی کے متعلق کیس کی سماعت ،سی پی او گوجرانوالہ رانا ایاز سلیم سمیت دیگر پولیس افسران پیش ، عدالت نے پولیس کو مغوی کی بازیابی کے لیے 18 جولائی تک کی مہلت دے دی.
جسٹس فاروق حیدر نے شہری عثمان علی کی درخواست پر سماعت کی ،سی پی او گوجرانولہ و دیگر پولیس افسران ، اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل محمد ادریس بھٹی کے ہمراہ پیش ہوئے،اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل محمد ادریس رفیق بھٹی ،، پولیس کی جانب سے پیش رفت رپورٹ پیش کی، جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا آئی جی صاحب کدھر ہیں، ؟ ائے ہیں یا نہیں ؟ ڈی آئی جی لیگل اویس ملک نے جواب دیاکورٹ آرڈر دے گے تو آئی جی پولیس آجائیں گے، جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ کیا صورتحال ہے، مغوی کی بازیابی کی ؟ اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ عدالت کی تینوں احکامات پر عمل درآمد ہوچکا ہے، فاضل جج نے استفسار کیا کہ اس بندے کی ریکوری ہوئی ہے یا نہیں ؟ لاء افسر نے پولیس رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مغوی علی حسن کی بازیابی کے لئے تمام کوشش ہورہی ہیں ، فاضل عدالت نے استفسار کیا کہ کون کون افسر آیا ہے، پنجاب حکومت کے لاء افسر نے جواب دیا سی پی او گوجرانولہ کے ساتھ ، ڈی پی او منڈی بہاوالدین اور ڈی پی او گجرات آئے ہیں ، ڈی آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے متعلقہ اداروں کو خط لکھ دیا گیا ہے ، جسٹس فاروق حیدر نے ڈی آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا پہلے بھی متعلقہ حساس اداروں کے متعلق بات کرنے سے روک دیا تھا ، پہلے ملکی قومی سلامتی پھر باقی معاملات ہیں ،آئندہ سماعت تک مغوی کی بازیابی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں ، عدالت نے آئی جی پنجاب کو مغوی کی بازیابی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 جولائی تک ملتوی کردی ،،درخواست گزار نے اپنے بھائی علی حسن کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہوا ہے،اس کیس میں گزشتہ سماعت پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور بھی پیش ہو چکے ہیں.