ویب ڈیسک: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ موجودہ تعلیمی نصاب ناانصافی پر مبنی ہے،یکساں نظام تعلیم کی دو اہم وجوہات ہیں۔
وفاقی وزیر تعلیم کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام طبقات کے لئے آگے بڑھنے کے مساوی امکانات بہت اہم ہے، ستر فیصد سے زائد بچے جو سرکاری سکولوں یا مدارس میں پڑھتے تھے ان کے لئے آگے بڑھنے کے مواقع کم تھے، ہمارے تعلیمی نظام نے معاشرہ کو بھی نقصان پہنچایا ہے، دنیا کو دیکھنے کے سب کو یکساں مواقع فراہم ہونے چاہئیے۔آج وزیر اعظم یکساں تعلیمی نصاب کی باقاعدہ لانچنگ کریں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مدارس، سرکاری، نجی اور انگریزی میڈیم سکولوں میں ایک ہی نصاب ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں قومی نصاب ہے، ہم نے قومی نصاب نہیں بنایا تھا جس سے تقسیم اور ناانصافی پیداہوئی۔ ہم نے تقسیم کی بڑی قیمت ادا کی ہے، ہم یکساں تعلیمی نصاب کا آغاز کررہے ہیں جس کے بہت بڑے بڑے مقاصد ہیں ہم نے کچھ اہداف رکھے ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت نے بتادیا کہ نصاب میں کریکٹر بلڈنگ کا بہت بڑاحصہ رکھا ہے تاکہ بچوں کی کردار سازی ہو، اقلیتوں کے لئے بھائی چارہ کی فضا اور تحمل شامل ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پانچ اقلیتوں سکھوں، ہندووں، عیسائی اور کیلاش مذاہب کے لئے الگ نصاب رکھا گیا ہے، کوئی اگر ایڈیشنل مضامین یا کتابیں پڑھانا چاھتا ہے اس پر ہمیں اعتراض نہیں ایک سسٹم سوچ رہے ہیں کہ پانچویں اورآٹھویں کا امتحان مشترک رکھ سکیں۔آج کا دن بہت اہم بھی ہے اور مسرت کے ساتھ چیلنج بھی ہے۔ پی ٹی آئی کا منشور تھا کہ ہم یکساں نظام تعلیم لائیں گے۔