ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بچوں سے بھیک منگوانا اب مہنگا پڑے گا، سزائیں اور جرمانے سخت

بچے سے بھیک منگوانے پر 3 ماہ سے 3 سال تک قید اور 3 ہزار سے 3 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا

بچوں سے بھیک منگوانا اب مہنگا پڑے گا، سزائیں اور جرمانے سخت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

علی رامے: پنجاب ویگرینسی 2026 کے ترمیمی بل میں بچوں سے بھیک منگوانے کے خلاف سزاؤں اور جرمانوں میں اضافہ کردیا گیا ہے، جبکہ قانون کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے والدین اور سرپرستوں کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔

ترمیم کے تحت پنجاب ویگرینسی ایکٹ میں بچوں کی عمر کی حد 14 سال سے بڑھا کر 16 سال کردی گئی ہے۔ اب بچوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والے والدین اور سرپرست بھی قانون کی زد میں آئیں گے۔ بچے سے بھیک منگوانے پر 3 ماہ سے 3 سال تک قید اور 3 ہزار سے 3 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

قانون کی خلاف ورزی دہرانے والے والدین یا سرپرست کو کم از کم 6 ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی، جبکہ بھیک منگوانے کے مقصد سے بچے کو کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا بھی قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

ترمیمی بل کے تحت ڈی جی سوشل ویلفیئر پنجاب کو انسدادِ گداگری کا کنٹرولر مقرر کردیا گیا ہے۔ بھکاریوں، زیرِ حراست افراد اور بحالی پانے والے افراد کا مرکزی ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، جبکہ کنٹرولر کو فلاحی اور بحالی مراکز کی نگرانی، معائنہ کرنے اور ریکارڈ طلب کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

منظم بھکاری مافیا کے خلاف پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کارروائیاں کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بھکاریوں کی بحالی، انہیں معاشرے میں دوبارہ شامل کرنے اور روزگار کی فراہمی کے لیے بھی منصوبے تیار کیے جائیں گے۔