مارکیٹ پر تسلط، جنوبی کوریا  کی عدالت کا گوگل کو 18 کروڑ ڈالر جرمانہ

مارکیٹ پر تسلط، جنوبی کوریا  کی عدالت کا گوگل کو 18 کروڑ ڈالر جرمانہ

   ویب ڈیسک : جنوبی کوریا کے ریگولیٹری ادارے نے موبائل آپریٹنگ سسٹم اور ایپ مارکیٹ میں اپنے تسلط کو غلط استعمال کرنے پر گوگل کو تقریباً 18 کروڑ ڈالر جرمانہ کیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق یہ جرمانہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے خلاف ریگولیٹری اداروں کے اقدامات میں نیا اضافہ ہے۔جرمانے کا فیصلہ جنوبی کوریا کی جانب سے گوگل اور ایپل جیسے بڑے ایپ سٹور آپریٹرز پر سافٹ ویئر ڈویلپرز کو اپنے ادائیگی کے نظام استعمال کرنے پر مجبور کرنے پر پابندی عائد کرنے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔ فیصلے  میں کہا گیا ہے کہ گوگل نے 'اینٹی فریگمنٹشن معاہدے' کے ذریعے مارکیٹ کے مقابلے کے رجحان میں رکاوٹ ڈالی ہے جو سمارٹ فون بنانے والوں کو اینڈرائیڈ کے ترمیم شدہ ورژن انسٹال کرنے سے روکتا ہے، جسے 'اینڈرائیڈ فورکس' کہا جاتا ہے۔کے ایف ٹی سی نے بیان میں مزید کہا ہے کہ اس کی وجہ سے ڈیوائس بنانے والے نئی سروسز کے ساتھ جدید مصنوعات لانچ نہیں کر سکے۔اینٹی ٹرسٹ واچ ڈاگ نے گوگل کو مقامی کرنسی میں 207.4 ارب (176.8 ملین ڈالر) جرمانہ کیا اور ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی کو اصلاحی اقدامات کرنے کا حکم دیا۔ کوریا فیئر ٹریڈ کمیشن (کے ایف ٹی سی) نے 2016 سے گوگل پر مبینہ طور پر مقامی سطح پر سمارٹ فون بنانے والی سیمسنگ الیکٹرانکس کو اپنے اینڈرائیڈ او ایس کو اپنی مرضی کے مطابق کرنے سے روکنے کی تحقیقات کی ہیں۔

گذشتہ ہفتے ایک امریکی جج نے ایپل کو فورٹ نائٹ بنانے والی ایپک گیمز کے ساتھ قانونی جنگ میں اپنے ایپ سٹور ادائیگی کے نظام پر کنٹرول ڈھیلا کرنے کا حکم دیا۔گوگل اور ایپل جنوبی کوریا میں آن لائن ایپ مارکیٹ پر حاوی ہیں، جو دنیا کی 12 ویں بڑی معیشت ہے اور اپنی تکنیکی صلاحیتوں کے لیے جانا جاتا ہے۔سیئول کی وزارت سائنس کے اعداد و شمار کے مطابق گوگل پلے سٹور کا ریونیو 2019 میں تقریباً پانچ ارب ڈالر سے زائد تھا، جو ملک کے کل ریونیو کا 63 فیصد ہے۔