ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت کی ریاستی دہشتگردی، کشمیری نوجوان ڈاکٹر کو لال قلعہ دھماکے کا مجرم ٹھہرا کر ان کا گھر بم سے اڑا دیا

 بھارت کی ریاستی دہشتگردی، کشمیری نوجوان ڈاکٹر کو لال قلعہ دھماکے کا مجرم ٹھہرا کر ان کا گھر بم سے اڑا دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  بھارت کی ہندوتوا پرست مرکزی حکومت کے ایما کر دہلی کے لال قلعہ بم دھماکہ میں کشمیری نوجوان کو ذمہ دار قرار دے کر پلوامہ مقبوضہ کشمیر میں ان کے گھر کو بارود سے اڑا دیا۔   دنیا کے سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت میں ایک سڑک پر ہونے والے دھماکے میں مارے جانے والے نوجوان مسلم ڈاکٹر کے متعلق کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں، اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں لیکن تب بھی متعصبانہ میڈیا کیمپین کروا کے  نہ صرف اسے مجرم مشہور کر دیا بلکہ راتوں رات اس کے گھر کو بھی بارود سے اڑا دیا۔ 

بھارتی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ ڈاکٹر عمر کا گھر سیکورٹی ایجنسیوں نے دھماکہ سے اڑایا۔
پرانی دہلی میں مسلمانوں کی آبادی کے علاقہ لال قلعہ میں ہونے والے پراسرار دھماکہ کے معاملہ مین بھارتی پولیس اور ایجنسیوں کی رپورٹیں پراسراریت کا عنصر لئے ہوئے ہیں۔ ایک کار کے اندر سے ملنے والی جلی ہوئی لاش کو لے کر یہ کہانی بتائی جا رہی ہے کہ یہ ڈاکٹر عمر کی لاش تھی اور ڈاکٹر عمر نے اپنی کار میں بارود بھر کر اسے دھماکہ سے اڑایا۔

اس پراسرار کہانی کے خالق یہ بھی مان رہے ہیں کہ دھماکہ میں اڑنے والی کار کئی گھنٹے سے جائے دھماکہ پر کھڑی دیکھی گئی تھی۔ وہ یہ بھی مان رہے ہیں کہ یہ کار ڈاکٹر عمرکے نام رجسٹرڈ نہیں تھی، نہ اس نے یہ کار کسی سے خریدی، نہ کہیں سے چرائی۔ تب بھی بس ضد کی جا رہی ہے کہ کار انہی کی تھی اور انہوں نے بم دھماکہ کیا۔

ڈاکٹر عمر فرید آباد مین زیرتعلیم تھے، ان کے کئی ساتھی ڈاکٹروں کو بھی اس دھماکہ میں شریک بتایا جا رہا ہے اور چند لوگوں کی باہمی دوستی کو زبردستی "گینگ" کی حیثیت سے دکھایا جا رہا ہے لیکن ان سب کی کسی بھی قابل اعتراض سرگرمی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔

اس معاملہ میں اب تک" کئی بڑے انکشافات" ہو چکے ہیں۔ جمعرات کو فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی پارکنگ میں ملی ڈاکٹر شاہین شاہد کے نام پر رجسٹرڈ ہ ایک کار کو بھی لال قلعہ دھماکہ سے  جوڑا جا رہا ہے۔
 
دہلی میں لال قلعہ کے قریب کار دھماکہ  کے بعد اب تک واحد ٹھوس اطلاع یہ سامنے آئی ہے کہ دھماکہ کے ایک مقتول ڈاکٹر عمر محمد کے پلوامہ واقع گھر کو سیکورٹی ایجنسیوں نے آج خطرناک دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔

 سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیر کر  ایک کشمیری شہری کے گھر کو بارود سے اڑانے کے پورے عمل کو منصوبہ بند طریقے سے انجام دیا۔

ایجنسیاں لال قلعہ دھماکے میں ایک فرضی گروہ کا وجود ثابت کرنے مین تو مکمل ناکام ہین لیکن کناڈا  زبان کی ایکشن فلموں جیسی کہانیاں مسلسل بنا رہی ہیں اور  کسی بھی دعوے کے ثبوت دیئے بغیر نئے سے نئے دعوے میڈیا کے ذریعہ فلوٹ کرتی جا رہی ہیں۔ْ
دھماکہ کی نام نہاد جانچ میں اب تک یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ کوئی "وائٹ کالر ٹیرر ماڈیول" ہے۔ فرید آباد سے ایک مسلمان ڈاکٹر شاہین شاہد کو گرفتار کیا گیا، اور اب ان کی کار تحویل میں لی گئی۔ 

فرید آباد پولیس کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں ملی ماروتی بریزا کار کی جانچ جموں و کشمیر پولیس کر رہی ہے۔ کار ملنے کے بعد اینٹی بم دستہ کو بلا کر گاڑی کی تلاشی لی گئی۔ یونیورسٹی احاطہ میں کھڑی دیگر گاڑیوں کی بھی جانچ کی گئی لیکن کوئی قابل اعتراض مواد کہیں موجود نہیں نکلا۔  

ڈاکٹر عمر نے ایک میسیجنگ ایپ میں اپنے کچھ دوستوں کا گروپ بنا رکھا تھا، ایجنسیوں کا اب دعویٰ ہے کہ اصل مین یہ میسجنگ گروپ ٹیررزم کی منصوبہ بندی کے لئے استعمال ہو، اس بات کا کوئی ایک جملے کا ثبوت بھی سامنے نہیں لایا گیا کہ ڈاکٹر عمر نے کبھی بھی کسی بھی شخص کے ساتھ کوئی غیر قانونی بات کی تھی۔

ڈاکٹر عمر کا کہیں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں  تب بھی وہ مجرم!
"تحقیقات" میں سامنے آیا ہے کہ دھماکہ میں مرنے والے  ڈاکٹر عمر محمد، ڈاکٹر مزمل احمد اور ڈاکٹر شاہین شاہد  ایک میسیجنگ ایپ کے ایک گروپ میں تھے۔ اس سے  نام نہاد تحقیقات کرنے والوں نے پوری کہانی جوڑ لی کہ سب منصوبہ بس اس ہی ایپ میں بنایا گیا تھا۔ اس کہانی کے حق میں ایک سطر تک ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔

 دھماکہ والی کار سے ملنے والی مسخ شدہ لاش کے ڈی این اے سے صرف یہ اسٹیبلش کیا گیا کہ مرنے والا ڈوکٹر عمر تھا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ کار دھماکے والی جگہ پر مواد کے ساتھ کئی گھنٹے تک کیوں موجود رہی۔ کوئی نہیں جانتا کہ ڈاکٹر عمر اس کار مین اپنی مرضی سے موجود تھا کہ کسی نے اسے بے ہوش کر کے یا باندھ کے اس کار میں ڈال رکھا تھا۔ بس یہ تصدیق ہوئی ہے کہ کار کے اندر ایک لاش اس کی تھی۔  اس لاش کی شناخت کو لے کر پوری کہانی از خود جوڑ لی گئی کہ یہ ہی لاش کار کو چلا کر دھماکے والی جگہ لائی تھی، حالانکہ اس کار کو چلتے دیکھنے والا کوئی گواہ سامنے نہیں آیا، سب نے اسے بس کھڑے ہی دیکھا تھا۔ اور یہ کہ کار کئی گھنٹے سے وہاں کھڑی تھی۔