سٹی 42: بابر اعوان نے کہا کلبھوشن یادھو کے گھر والوں کو اس سے ملنے کی اجازت ہے، بانی پی ٹی آئی کے گھر والوں کو کیوں نہیں؟
پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقاتوں کی اجازت تھی تو باقاعدگی سے وہاں جاتا تھا، علیمہ خان نے کہا تو کل بھی اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے میں موجود تھا، کلبھوشن یادھو کے گھر والوں کو اس سے ملنے کی اجازت ہے، بانی پی ٹی آئی کے گھر والوں کو کیوں نہیں؟کلبھوشن یادھو کو قونصلر کے ذریعے وکیل تک رسائی دی گئی،مجھ سمیت باقی وکلا کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی کیوں نہیں دی جا رہی؟اس ملک میں دو وزیراعظم ہیں، ایک معلوم اور ایک اس کے پیچھے نامعلوم، حبیب جالب نے کہا تھا منصف بھی تو قیدی ہیں، ہمیں انصاف کیا دیں گے؟ آج انصاف بھی قید میں آ گیا ہے
بابر اعوان نے کہا اٹھارہویں آئینی ترمیم کا دھڑن تختہ ہونے لگا ہے، نئی آئینی ترمیم صوبائی خود مختاری پر حملہ ہو گا،نئی آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں سے اختیارات واپس لے کر مرکز کو دیے جائیں گے،این ایف سی ایوارڈ کے پرانے فارمولے میں تبدیلی کر کے صوبوں کو کمزور کیا جائے گا،اٹھائیسویں آئینی ترمیم باوردی ہے جس کے ذریعے صدارتی نظام حکومت بنانے کی گفتگو ہو رہی ہے۔