رواں سال بھی پنجاب پولیس کی وردی نہیں خریدی جاسکے گی

رواں سال بھی پنجاب پولیس کی وردی نہیں خریدی جاسکے گی

علی ساہی: پنجاب پولیس کے اعلی افسران کی ناقص حکمت عملی یاجان بوجھ کر وردی کی خریداری میں تاخیر, بروقت فیصلے نہ ہونے کی وجہ سےگزشتہ سال کی طرح رواں سال بھیc کی وردی نہیں خریدی جاسکے  گی۔پری کوالیفائی کرنے والی چاروں کمپنیوں کے سیمپلز مسترد جبکہ مالی سال کے اختتام کی وجہ سے رواں سال کنٹریکٹ کا اجرا نہیں ہوسکے گا۔

تفصیلات کے مطابق اعلی افسران کی سستی اورکاہلی کی وجہ سے پنجاب پولیس کےجوانوں کو وردی مہیا نہیں کی جاسکے گی کیونکہ دوروزقبل اولیو گرین یونیفارم کے لیے پری کوالیفائی کرنے والی کمپنیوں کے جمع کروائے گئے سیمپلزٹیکنیکل کمیٹی نے مسترد کردیے ہیں اور اب دوبارہ سیمپلزنہیں منگوائے جائیں گے جسکی وجہ سے اڑھائی لاکھ وردی کی خریداری اب اگلے مالی سال میں کی جائے گی ۔

 رواں مالی مالی سال کےاختتام کوصرف ڈیڑھ ماہ رہ گیا ہے اور پراسس مکمل نہیں ہوسکتاجس کی وجہ سے اہلکاروں کواپنی وردیاں خود خریدناپڑیں گی۔گزشہ سال بھی سابقہ ائی جیز کی جانب سے بروقت فیصلے نہیں کیے گئے تھے جس کی وجہ سے وردی نہیں خریدی جاسکی تھی پچاس کروڑ سے زائدکے فنڈز سرنڈر کرنا پڑے تھے۔

آئی جی پنجاب  شعیب دستگیر  کی پروکیورمنٹ اور لوجسٹک برانچ میں جب صرف ایک اے آئی جی تھا تو تب بروقت اقدامات کیے جاتے تھے اور ہرسال خریداری ممکن ہوتی تھی جبکہ وردی کی تبدیلی بھی ایک اے ائی جی نے مکمل بنائی تھی پچھلے دوسال سے اس برانچ میں ایڈیشنل آئی جی ۔دو ڈی ائی جیز اوردواے آئی جیز  کی سیٹیں بنائی گئی ہیں کارکردگی ناقص ہوگئی ہے اوردونوں سال ہی وردی کی خریداری ممکن نہیں ہوسکی ۔

ایسے حالات میں آئی جی پنجاب   شعیب دستگیر کو اقدامات کرنے ہوں گے کہ جو کام ایک ایس ایس پی رینک کا افسرکررہاتھا وہاں افسران کی فوج تعینات کرکے اہم معاملات بھی پس پشت ڈالے جانے لگے ہیں ۔