اجتماعی اعتکاف کی بجائے محدود پیمانے پر اعتکاف کا فیصلہ

 اجتماعی اعتکاف کی بجائے محدود پیمانے پر اعتکاف کا فیصلہ

(حسن خالد ) کورونا وبا کے پیش نظر ماہ رمضان کے آخری عشرے میں محدود پیمانے پر اعتکاف کیاجائے گا، اجتماعی اعتکاف کی بجائے مقامی مساجدمیں چار سے پانچ افراد الگ الگ حجروں میں اعتکاف بیٹھ سکیں گے۔

 رمضان المبارک کےآخری عشرے میں ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی لاکھوں فرزندان اعتکاف بیٹھتے ہیں۔اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے اجتماعی اعتکاف کے اجتماعات منسوخ کردیئے گئے ہیں۔حکومت کے مطابق سنت رسول ﷺ کی ادائیگی کیلئے مساجد میں چار سے پانچ لوگ اعتکاف بیٹھیں گے۔

جامعہ اشرفیہ کے مہتم اعلیٰ مولانا فضل الرحیم اور عالم دین مفتی احمد علی کا کہنا ہے کہ  رمضان المبارک میں اعتکاف بیٹھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے لیکن اس وقت جس وبا کا سامنا ہے اس میں انسانی جانوں کو بچانا بھی مقدم ہے، مساجد میں صرف چار سے پانچ لوگ ہی اعتکاف بیٹھیں گے،علما کرام حکومتی ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں، اجتماعی اعتکاف کیلئے داتا دربار،منہاج القرآن،بادشاہی مسجد، جامعہ اشرفیہ اور جامعہ نعیمیہ سمیت دیگر مساجد کے پروگرام منسوح کردیے گئے ہیں۔علما کرام کا کہنا ہے کہ بچوں ، بزرگوں اور بیمار افراد کو اعتکاف نہ بیٹھنے دیا جائے۔

دوسری جانب  پنجاب میں رمضان کے آخری عشرہ اور یوم علی ؑکے موقع پر صوبہ میں ہر قسم کے جلوس پر پابندی لگا دی ،امام بارگاہوں اور گھروں میں مجالس کی مشروط اجازت  ہوگی،بچے اور 50برس سے کم عمر اور بیمار افراد کی مجالس میں نہیں آسکیں گے  ،ایس او پیز کے مطابق مجالس زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ تک جاری رکھی جا سکیں گی  ،امام بارگاہوں میں اجتماعی افطاری اور سحری پر بھی پابندی ہوگی۔محکمہ داخلہ پنجاب نے مراسلہ جاری کر دیا۔

وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں پنجاب حکومت نے رمضان کے آخری عشرہ اور یوم علی ؑکے موقع پر صوبہ میں ہر قسم کے جلوس پر پابندی عائد کر دی۔ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے امام بارگاہوں اور گھروں میں مجالس کی مشروط اجازت ہوگی۔