لاہور کا ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آگیا

لاہور کا ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آگیا

شہر بھر سے (قذافی بٹ، فاران یامین، کومل اسلم) صوبائی دارالحکومت لاہور میں کوڑے کے ڈھیروں کیساتھ سیوریج ملے پانی کا مسئلہ بھی سامنے آگیا۔

 بہار شاہ روڈ الفیصل ٹاؤن جوڑے پل میں بھی کچرے کے ڈھیر سے شہری پریشان نظر آئے، انہوں نے کہاکہ شکایات کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوتی ہے، انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ فوری کوڑا اٹھائے تاکہ بدبو اور تعفن ختم ہوسکے، کھوکھر روڈ کے مکین شنوائی نہ ہونے پر سیوریج ملا پانی پینے پر مجبور ہیں۔

صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی ورکشاپس کا دورہ کیا، ورکشاپس میں کھڑی کمپنی کی ناکارہ گاڑیوں پر برہمی کا اظہار کیا، ناکارہ گاڑیوں کو آپریشنل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

انہوں نے چلڈرن ہسپتال کے عقب میں واقع مین ورکشاپ، سگیاں پل ورکشاپ اور ویلنشیا ٹاؤن ورکشاپ کا دورہ کیا۔ صوبائی وزیر نے ورکشاپس کے دورہ کے دوران سٹاف کی حاضری بھی چیک کی۔

 میاں اسلم اقبال نے انتظامیہ کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ معمولی نقائص والی گاڑیوں کو 24 گھنٹے کے اندر آپریشنل کیا جائے، آئندہ کسی ورکشاپ میں ناکارہ گاڑی نظر نہیں آنی چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو 15 جنوری کی شام تک زیرو ویسٹ کا ہدف ہر صورت حاصلِ کرنا ہوگا۔میاں اسلم اقبال نے شمالی لاہور میں صفائی کا جائزہ لیا،سی ای او ایل ڈبلیو ایم سی ان کے ہمراہ تھے۔ 

صوبائی وزیر نے سنگھ پورہ، بھوگیوال روڈ، گھوڑے شاہ، چمڑہ منڈی، سلطان پورہ، باغبانپورہ، شالیمار چوک سمیت دیگر علاقوں کا بھی دورہ کیا۔ ان علاقوں میں جاری صفائی آپریشن کا جائزہ لیا۔

 میاں اسلم اقبال نے کہا کہ شہریوں کو ہر صورت صاف ستھرا اور تعفن سے پاک ماحول فراہم کیا جائے گا۔ تمام افسران، عملہ و مشینری شہر صاف ہونے تک فیلڈ میں متحرک رہیں۔ یہ بھی واضح طور پر کہا کہ جو کام نہیں کرے گا گھر جائے گا۔