سٹی42: خوفناک بارش نے جنت نظیر کشمیر میں کہرام برپا کر دیا۔ سیلاب سے درجنوں افراد جاں بحق ہو گئے۔ آج پاکستان کے یومِ آزدی کے موقع پر کشمیری عوام کو عظیم سانحہ سے دوچار ہونا پڑا، دوپہر کے وقت کقبوضہ کشمیر کے علاقہ کشتواڑ میں خوفناک بارش ہوئی جس کے نتیجہ میں فلیش فلڈ آیا اور لینڈ سلیائیڈنگ بھی ہو گئی، درجنوں افراد اس بارش سے جنم لینے والے حادثات میں جاں بحق ہو گئے، شام سات بجے تک ان اموات کی تعداد برھ کر 40 ہو چکی ہے۔
حالیہ مون سون کے دوران یہ کشمیر میں شدید بارش اور فلیش فلڈ کا پہلا سانحہ ہے، اس سے کچھ دن پہلے بھارت کی مقبوضہ کشمیر سے ملحق ریاست ہماچل پردیش میں کلاؤڈ برسٹ ہوا تھا، فلیش فلڈ نے ایک ساحتی گاؤں میں کئی عمارتین بنیاد سے اکھیڑ ڈالی تھیں، اس سیلاب میں بھی درجنوں اموات ہوئی تھیں۔
کشتواڑ میں آج دوپہر کیا ہوا
آج 14 اگست 2025 بروز جمعرات مقبوضہ کشمیر کے وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے سے 1 بجے کے درمیان ایک طاقتور بادل پھٹنے سے چوسوتی گاؤں پر ایک طاقتور کلاؤڈ برسٹ ہوا جس سے فلیش فلڈ آ گیا۔ چسوتی گاؤں ، ایک دور دراز علاقہ ہے اور مچائیل ماتا یاترا کے روٹ پر یہ آخری گاؤں ہے جہاں موٹر گاڑی جا سکتی ہے۔
آج دوپہر ہونے والی خوفناک بارش کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے چسوتی گاؤں اور اس سے نیچے واقع علاقہ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی - بہت سی گاڑیاں اور گھر سیلاب سے تباہ ہو گئے۔ یاترا کے لئے جانے والے ہندو عقیدتمندوں کی خدمت کرنے والے کمیونٹی کچن کو بھی سیلاب بہا لے گیا۔
ابتدا مین اموات کی تعداد 30 بتائی جا رہی تھی، شام سات بجے تک یہ بتایا جا رہا ہے کہ 37 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
کچھ ذرائع نے 38 ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جب کہ انٹرنیشنل نیوز ایجنسی اے پی نیوز کے مطابق کم از کم 37 ہلاک، تقریباً 50 لاپتہ ہونے کی خبر بتا رہی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق تقریباً 150 کو بچا لیا گیا، جن میں متعدد شدید زخمی ہیں۔
بچاؤ اور ردعمل:
یہ فلیش سیلاب مقبوضہ کشمیر کے انتہائی دشوار علاقہ مین آیا ہے۔ بھارت کی مقبوضہ ریاست کے ادارے اس کے لئے تیار نہین تھے۔ تاہم بتایا جا رہا ہے کہ این ڈی آر ایف کی ٹیمیں، مقامی حکام، پولیس، ڈیزاسٹر فورسز اور فوج کے ساتھ، امدادی کارروائیوں کے لیے متحرک ہو گئی ہیں۔
کامدادی وششوں کو مربوط کرنے کے لیے ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔
یاترا ملتوی کر دی گئی
آج دوپہر ہونے والی تباہی کے بعد مچل ماتا یاترا کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت کاردعمل; بھارت کے یوم آزادی کی تقریبات منسوخ
مقبوضہ ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے متاثرین کے اعزاز میں یوم آزادی 'گھر پر' اور ثقافتی تقریبات منسوخ کر دیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی، صدر دروپدی مرمو، راہول گاندھی، اور دیگر نے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور امداد کی یقین دہانی کرائی ہے۔
کلاؤڈ برسٹ کیا ہے؟
بادل پھٹنا ایک شدید، مختصر دورانیے کی بارش کو کہا جاتا ہے — عام طور پر 100 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ایک گھنٹہ کے دوران ہو جائے، تو اس سے فلیش سیلاب آ سکتا ہے اور ماحولیاتی تباہی ہوتی ہے۔ جونبی ایشا مین کلاؤڈ برسٹ عام طور پر ہمالیہ جیسے پہاڑی علاقوں میں ہوتا ہے۔
پہاڑی علاقہ میں اس طرح کی شدید بارش فوری سیلاب تو پیدا کرتی ہی ہے اس کے ساتھ یہ زمین کو کھود کر رکھ دیتی ہے اور لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بنتی ہے۔
ایسے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعدد کا تعلق موسمیاتی تبدیلی اور حساس علاقوں میں غیر منصوبہ بند انفراسٹرکچر کی ترقی سے ہے۔
کشتواڑ کلاؤڈ برسٹ پر تازہ ترین
اے پی نیوز کے مطابق، ضلع کشتواڑ کے گاؤں چوسیتی (چسوتی) میں اچانک بادل پھٹنے سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کم از کم 37 افراد ہلاک، 50 کے قریب لاپتہ اور 150 کو بچا لیا گیا، جن میں کئی شدید زخمی بھی شامل ہیں۔ اس سیلاب نے ایک کمیونٹی کچن کو بھی نشانہ بنایا جو مچیل ماتا یاترا کے راستے پر 200 سے زیادہ یاتریوں کی خدمت کر رہا تھا۔ مقامی حکام، این ڈی آر ایف، پولیس اور فوجی دستوں کی مدد سے بچاؤ کی کوششیں جاری ہیں۔ یاترا روک دی گئی ہے۔
بھارت کی دیگر علاقائی آؤٹ لیٹس قدرے مختلف اعداد و شمار کی اطلاع دے رہی ہیں۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق 37 افراد ہلاک، 100+ زخمی ہوئے ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا نے 38 مرنے والوں کا حوالہ دیا، اور بتایا کہ کل یوم آزادی کی ثقافتی تقریبات منسوخ کر دی گئیں۔
این ڈی ٹی وی نے 38 ہلاکتوں کی نشاندہی کی، تقریباً 100 زخمی ہونے کی اطلاع دی اور بتایا کہ ریسکیو گیئر اور فوج کی کمک متاثرہ علاقہ میں پہنچ گئی ہے۔
اکنامک ٹائمز نے نوٹ کیا کہ 30 ہلاک ہوئے، 98 کو بچا لیا گیا، امدادی کارروائیوں کیلئےکنٹرول روم قائم کر دیا گیا۔
مزید اموات کی تصدیق
اس سانحہ کی خبر پوسٹ کرنے کے دوران ہی یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ اب کشتواڑ سانحہ میں مرنے والوں کی تعداد برھ کر 40 ہو گئی ہے۔