سٹی42: صدر ٹرمپ کے روسی صدر پیوتن سے مذاکرات ناکام ہو گئے تو صدر ٹرمپ اپنے سابق چمچے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی مزید پٹائی کریں گے۔
ٹرمپ پیوٹن مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ کے صدر بھارت پر مزید ٹیرف لگائیں گے۔
امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے دنیا کو آگاہ کیا ہےکہ امریکہ نے بھارت پر جو اضافی ٹیرف لگائے ہیں، یہ ٹیرف مزید بڑھائے جاسکتے ہیں۔
وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ اگر صدر ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے تو صدر ٹرمپ بھارت پر مزید ٹیرف لگائیں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست کے آغاز مین بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا تھا اور چند ہی روز بعد اس میں 25 فیصد اضافہ کر دیا تھا جس کا اطلاق چند روز میں ہونے والا ہے۔ اس وقت بھارت کی امریکہ کے لئے ایکسپورٹس پر مجموعی ٹیرف 50 فیصد ہو جانے کا انڈین مینوفیکچررز کو یقین چکا ہے۔ اس بھاری ٹیرف نے بھارت کی بہت سی پروڈکٹس کو امریکہ کی مارکیٹ میں اَن وائیبل کر ڈالا ہے، بھارت میں امریکہ کو ایکسپورٹ کرنے کے لئے پروڈکٹس بنانے والی کئی فیکٹریوں نے گزشتہ چند روز کے دوران کام ہی بند کر دیا ہے۔
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اس صورتحال میں اپنے "دوست" صدر ٹرمپ کا غصہ دور کرنے کے لئے عملاً کچھ نہیں کر سکے کیونکہ صدر ٹرمپ نے بھارت کو روس سے پٹرولیم اور ہتھیار وغیرہ خریدنے کی سزا دی ہے اور بھارت روس کا سوویت یونین کے زمانہ سے قریبی تجارتی پارٹنر رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکہ بھارت تعلقات بہتر ہوئے تھے اور خاص طور سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران نریندر مودی کو صدر ٹرمپ کا قریبی دوست کہا جانے لگا تھا لیکن اپنی نئی صدارت کی ابتدا سے ہی صدر ٹرمپ ٹیرف کا کوڑا ہاتھ میں تھامے بہت سے ملکوں کی پٹائی کرنے کے درپے ہیں، بھارت ان ملکوں میں سر فہرست آ چکا ہے جن کی امپورٹس کیلئے امریکہ کی مارکیٹ تنگ ہوتی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کے وزیرخزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ امریکا بھارت پر 25 فیصد ٹیرف پہلے ہی لگا چکا ہے جبکہ روس سے پٹرولیم مصنوعات خریدنے کی پاداش میں اضافی 25 فیصد ٹیرف کا اطلاق اگلے کچھ دنوں میں ہوگا اور اس طرح بھارت کو امریکہ کی مارکیٹ میں 50 فیصد ٹیرف کا سامنا ہوگا۔
وزیرخزانہ سکاٹ بیسنٹ کے مطابق اگر ٹرمپ اور پیوٹن کے مذاکرات ناکام ہوئے تو بھارت پر امپورٹ ٹیرف 50 فیصد سے بھی زیادہ ہوجائیں گے۔
اسکاٹ بیسنٹ کاکہنا ہےکہ بھارت پر مزید ٹیرف لگنے کا انحصار "ٹرمپ پیوٹن مذاکرات کے نتائج" پر ہے۔
کل نریندر مودی کا ڈی دے ہو گا
صدر ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات کل جمعہ کو الاسکا میں ہوگی اور یہ ملاقات 2021 کے بعد کسی موجودہ امریکی اور روسی صدر کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات ہوگی۔ اس ملاقات کا دونوں ملکوں کے پیچیدہ تعلقات پر خواہ کچھ بھی اثر ہو، بھارت مین نریندر مودی کے لئے یہ ملاقات ڈومز ڈے جیسی ہو گی

صدر ٹرمپ نےکہا ہےکہ وہ جمعے کے روز روسی ہم منصب کے ساتھ الاسکا میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے فوراً بعد ایک دوسری ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نےکہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس ملاقات میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی شامل ہوں، یہ ملاقات تبھی ہوگی اگر فریقین اس پر آمادہ ہوں۔