سٹی 42: سابق نگراں وزیر ڈاکٹر گوہر اعجاز نے اپنے خطاب میں کہا ہمیں آج کے دن فیلڈمارشل ،حکومت ،محسن نقوی صاحب پرہمیں فخر ہے۔
محسن رضانقوی صاحب کایہاں آنالینڈمارک ہےجوپاکستان کاآج کردار ہے تین سال پہلے ایسانہیں تھا .ہم نے جب اپنے ملک کو چھوڑدیاتوبزنس کی بھٹی کی وجہ سے تو دوست ممالک سے پیسے اپنےاکائونٹ میں ڈلوائے۔ہم اپنے ریزومیں 6ارب ڈالر پرچلے گئے تھے۔اس مٹی میں ہمیں دفن ہوناہمارے لیئے باعث فخر ہے۔اس جذبہ سے ہمارے جوان لڑرہے ہیں توکیابزنس کمیونٹی کوبھی یہی جزبہ ہو ۔اج ہم 16ارب ڈالر پرکھڑے ہیں جو6ارب ڈالر پرتھا
ہمیں آج کے دن فیلڈمارشل ،حکومت ،محسن نقوی صاحب پرہمیں فخر ہے۔پاکستان دنیاکی پانچویں بڑی آبادی والاملک ہے تواس کی اکانومی بھی پانچویں بڑی اکانومی ہونی چاہیئے
پاکستان سے 10بلین ڈالر پاکستان سے باہر جارہاہےیہ پاکستان میں تب رکے گاجب بزنس فرینڈلی ماحول بنےگا۔ورلڈبینک کہتاہے پاکستان میں 12ملین گھروں کی شارٹیج ہے
ہائوسنگ کاایک سیکٹر آپ کی جی ڈی پی میں 5فیصد بڑھاسکتاہے۔کیوں 36اے کاقانون لگایاگیاہے۔پیسہ سائیکل میں آئے گاتومعیشت چلے گی۔
بجلی 30روپے کی ہے 9روپے کافیول ہے یہ سمجھ نہیں آتا۔اس چکر میں آئی پی پیز والوں نے ایساپھنسایاہواہے اس میں پھنسے رہیں گےسودہربیماری کی وجہ ہے
نوروپے کی اوسط مٹریل کاہمارافی یونٹ ہے۔سو ارب ڈالر ایکسپورٹ کاخواب ہے بزنس کمیونٹی اور حکومت کاہے۔اس خواب کی تعبیر ایسے ہے ٹیرف کاسٹ اسٹرکچر بہتر کردیں