سٹی42: سپریم کورٹ نے 9 مئی 2023 کو ریاست کی تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں پر حملوں سمیت تمام متعلقہ مقدمات کا ٹرائل 4 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ریاستی تنصیبات پر حملہ کے ملزم کو بیماری کی وجہ سے رعایت دینے سے انکار کر دیا۔
سپریم کورٹ میں 9 مئی کو ریاستی تنصیبات پر حملوں کے کیس میں ضمانت منسوخی کے کیس کی سماعت پیر کے روز ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
ملزم فواد چوہدری نے مؤقف اپنایا کہ میرا کیس سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوا۔ چیف جسٹس یحیٰ آفدیدی نے ہدایت کی کہ جو کیسز رہ گئے ہیں وہ آئندہ دو روز میں مقرر کر رہے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا، انسداد دہشت گردی کی عدالتیں ہمارے لیے ملٹری کورٹس بن چکی ہیں، سپریم کورٹ سے کوئی لیٹر بھی جاری ہوا ہے۔
سپیشل پراسیکیوٹر زوالفقار نقوی نے حقائق کی وضاحت کی کہ ایسا کوئی لیٹر جاری نہیں ہوا۔
نامزد ملزم رضوان مصطفیٰ کے وکیل ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے اور استدلال کیا کہ 143 گواہ ہیں،چار ماہ میں ٹرائل مکمل نہیں ہوسکے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ زرا اونچی آواز میں پڑھیں، قانون کیا کہتا ہے، ایک ماہ اضافی دیکر چار ماہ کا وقت اسی لیے دیا تاکہ ٹرائل مکمل ہو جائے۔
لاہور میں جناح ہاؤس اور کور کماندر کے گھر پر حملہ کی ملزمہ خدیجہ شاہ کے وکیل سمیر کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے اور میری مؤقف اپنایا کہ موکلہ تین کیسز میں نامزد ہے، عدالت آبزرویشن دے مزید کیسز میں نامزد نہ کیا جائے۔ ہمارے حقوق متاثر نہ ہوں۔
چیف جسٹس پاکستان نے ملزمہ خدیجہ شاہ کے وکیل سے کہا بے فکر رہیں آپ کے حقوق متاثر نہیں ہونگے، ہم آرڈر میں خصوصی طور پر لکھ دیں گے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ تمام کیسز میں یہ آبزرویشن دے دیں، بعض کیسز میں چالان کی کاپیاں نہیں فراہم کی جاتیں، چیف جسٹس پاکستان نے سپیشل پراسیکیوٹر کو ہدایت کہ تمام ریکارڈ فراہم کیا جانا چاہیے۔
ریاستی تنصیبات کے ملزم خضر عباس کی میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت کی درخواست کی بھی اسی موقع پر سماعت ہوئی۔ ملزم کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی عمر بیس سال ہے، وہ بیمار ہے، اس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر بیماری کی وجہ سے رعایت کریں گے تو جیل میں موجود تمام بیمار رہا ہو جائیں گے۔
عدالت نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو چار ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے اور متعلقہ ہائی کورٹس کو ہر پندرہ روز میں عمل درآمد رپورٹس بھی پیش کرنے کی ہدایت کی اورنوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت پرسوں تک ملتوی کردی۔