ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چیف جسٹس آف پاکستان نےفل کورٹ اجلاس بلا لیا

چیف جسٹس آف پاکستان نےفل کورٹ اجلاس بلا لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  چیف جسٹس آف پاکستان نے  جمعہ کی دوپہر سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس بلا لیا۔

ذرائع نے کہا کہ فل کورٹ اجلاس کل جمعہ نماز سے قبل ہوگا، فل کورٹ اجلاس میںسپریم کورٹ کے رولز میں  ترمیم پر بات ہوگی۔

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس یحیٰ آفریدی کے فل کورٹ اجلاس بلانے کی خبر آج جمعرات کی دوپہر ہی آ گئی تھی۔  اب بعض لوگ اسے دو سابق قرار پا چکے ججوں کے استعفوں کے بعد کی صورتحال سے جوڑ رہے ہیں۔ یہ دونوں سابق جج اب فل کورٹ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

سپریم کورٹ کے دو سابق ججوں منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ نے بھی 27 وین ترمیم کو لے کر چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان سے فل کورٹ اجلاس بلانے کی استدعا کی گئی تھی۔ بعد میں ان دونوں ججوں نے اجلاس میں بیٹھ کر ساتھی ججوں کے ساتھ مباحثہ کرنے کی بجائے استعفے لکھ کر ایوان صدر  پہنچنے سے پہلے بعض نیوز آؤٹ لیٹس سے نشر کروا دیئے۔ اطلاعات کے مطابق جسٹس صلاح الدین پنور نے بھی فل کورٹ اجلاس بلانے کے لیے سی جے کو خط لکھا تھا لیکن جسٹس پنہور نے استعفیٰ نہیں دیا، وہ اب بھی جج ہیں۔

جسٹس صلاح الدین پنور کا چیف جسٹس یحیی آفریدی کو لکھا خط  بھی پراسرار انداز سے میڈیا آؤٹ لیٹس تک پہنچا جس میں جسٹس صلاح الدین پنور نے فل کورٹ اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔ اس خط کے متن کے مطابق جسٹس پنہور نے کہا،  فل کورٹ میٹنگ بلا کر آئینی ترمیم کا شق وار جائزہ لیا جائے، انہوں نے تجویز دی،  لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے۔

جسٹس پنہور نے اپنے خط مین پاکستان کی پارلیمنٹ کے آئین سازی کے ناقابلِ تنسیخ اختیار کو نظر انداز کرتے ہوئے لکھا  کہ ستائیسویں ترمیم "اختیارات کے توازن"  کو خراب کر سکتی ہے،  آئین تقاضا کرتا ہے کہ سپریم کورٹ اس کا تحفظ کرے۔

جسٹس صلاح الدین پنور نے میڈیا آؤٹ لیٹس کو خاص طور سے فراہم کئے گئے اس  خط میں یہ رجزیہ جملہ بھی لکھا، " تاریخ ہماری آسانی نہیں بلکہ ہماری فیصلہ سازی کی ہمت کو یاد رکھے گی."، "عوامی اعتماد کو بچانے کےلیے فوری فل کورٹ اجلاس بلایا جائے۔"

اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں صرف ایجنڈا پر ہی بات ہو گی، چیف جسٹس اس سے پہلے بھی  "سیاسی نوعیت" کے معاملات کو فل کورٹ میں لانے کی کوششوں کو رد کر چکے ہیں۔