سٹی42: سپریم کورٹ کے دو ججوں نے آئین میں 27 ویں ترمیم کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے جج کے عہدہ سے استعفے دے دیئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے سینئیر موسٹ جج جسٹس منصور علی شاہ نے استعفیٰ دے دیا ہے, سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ کے سینئیر موسٹ جج تھے۔
جسٹس اطہر من اللہ کے متعلق بھی خبر آ رہی ہے کہ انہوں نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے پروموٹ کر کے سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا تھا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے صدرِ مملکت کو جو استعفا بھیجا ہے اس میں پورا ناول لکھا گیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات کا ایک طول طویل استعفا لکھا جس کی ایک مبینہ کاپی غالباً خود انہوں نے ہی میڈیا آؤٹ لیٹ کو بھی فراہم کی ہے۔
اس استعفیٰ میں جسٹس منصور علی شاہ نے کسی ماہر سیاستدان کی طرح 27 ویں ترامیم کے مجموعہ پر تنقید کی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفیٰ میں پاکستان کی پارلیمنٹ کی منظور کردہ آئینی ترامیم کے 27 ویں مجموعہ میں شامل آئینی عدالت بنانے والی ترامیم پر شدید احتجاج کیا، آئینی عدالت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا، سپریم کورٹ کو تقسیم کر دیا گیا ہے۔اس ترمیم نے "ہماری آئینی جمہوریت" کی روح پر کاری ضرب لگائی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کا استعفیٰ؛ زیادہ ڈرامائیت
جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے میں لکھا کہ "نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پر کیا۔ "
استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ کا کہناہےکہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا۔
استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا ہےکہ ان تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئین پاکستان سے تھا، 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی۔
جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، میرا حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اب آئین موجود نہیں رہا۔
استعفیٰ میں لکھے گئے الفاظ کے مطابق اطہر من اللہ نے کہا، آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پر کیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔
پاکستان کا آئین بنانے والوں نے پاکستان کے آئین میں ترامیم کیں اور آئینی عدالت بنائی
آئینی عدالت کا قیام پاکستان کی تمام میں سٹریم سیاسی جماعتوں نے میثاقِ جمہوریت میں اتفاق رائے سے طے کیا تھا۔ چارٹر آف جمہوریت لکھنے والوں میں پہلی صف میں شہیدِ جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو شہید کھڑی تھیں، ان کے ساتھ ان کے آرچ رائیول سابق وزیراعظم نواز شریف کھڑے تھے؛ آئینی عدالت کیوں ضروری تھی، اس کے پیچھے قومی المیوں کی طویل تاریخ ہے۔ ستائیس ویں آئینی ترمیم منطور ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اب محترمہ بینظیر بھٹو کی روح کو سکون ملے گا۔