ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پی ایچ اے اور ماحولیاتی کمیشن کی کارروائی سے متعلق کیس میں تحریری فیصلہ جاری

پی ایچ اے اور ماحولیاتی کمیشن کی کارروائی سے متعلق کیس میں تحریری فیصلہ جاری
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) اور ماحولیاتی کمیشن کی کارروائی سے متعلق کیس میں تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے دورانِ سماعت درختوں کی کٹائی کے واقعے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کنٹونمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے رپورٹ طلب کر لی۔
 تحریری فیصلے کے مطابق سماعت کے دوران پی ایچ اے کی جانب سے ایڈووکیٹ مریم حیات عدالت میں پیش ہوئیں، جبکہ کمیشن کے ارکان نے اپنی رپورٹ جمع کروائی جس میں بتایا گیا کہ جب کمیشن کے ارکان موقع پر پہنچے تو تعمیراتی کام جاری تھا۔پی ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اس مقام پر مزید تعمیراتی کام نہیں کیا جائے گا، جس پر عدالت نے کام کی معطلی کا عبوری حکم آئندہ سماعت تک برقرار رکھنے کا حکم دیا۔عدالت نے پی ایچ اے کو ہدایت کی کہ تمام اجازت ناموں، معاہدوں اور متعلقہ دستاویزات اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کیے جائیں، اور ان دستاویزات کی کاپیاں کمیشن کے ارکان اور درخواست گزار کو بھی فراہم کی جائیں۔تحریری فیصلے کے مطابق سماعت کے دوران ڈی آئی جی موٹرویز بھی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔ E محکمہ ماحولیات A کے نمائندے نے بھی عدالت میں اس معاہدے کی تصدیق کی۔عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ بھاری گاڑیوں کے معائنے کے لیے مختلف مقامات کی نشاندہی کر دی گئی ہے، ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں اور ایک ڈیوٹی روسٹر بھی عدالت کے ریکارڈ پر جمع کروا دیا گیا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ کمیشن کے ارکان ان مقامات کی توثیق کریں اور معائنہ بلا تعطل جاری رکھا جائے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سماعت کے دوران عدالت کے سامنے کنٹونمنٹ ایریا میں برگد کے ایک قدیم درخت کی کٹائی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ عدالت نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ کنٹونمنٹ ایریا میں کسی درخت کی کٹائی نہ کی جائے۔عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ کنٹونمنٹ بورڈ کے سی ای او سے ہدایات لے کر مکمل رپورٹ پیش کریں اور یہ واضح کریں کہ لاہور اور گرد و نواح میں درختوں کی کٹائی پر عدالتی احکامات کے باوجود اس واقعے کا ذمہ دار کون ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ماحولیاتی تحفظ کے احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور متعلقہ ادارے اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں خود ادا کریں تاکہ عدالت کو بار بار مداخلت نہ کرنا پڑے۔

Ansa Awais

Content Writer