ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انٹرنیٹ سروس معطل، طلبہ، تاجر، صحافی اور آن لائن سروس فراہم کرنیوالے پریشان

انٹرنیٹ سروس معطل، طلبہ، تاجر، صحافی اور آن لائن سروس فراہم کرنیوالے پریشان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: بلوچستان بھر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی معطلی نے عوام کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ طلبہ، تاجر، صحافی اور آن لائن سروس فراہم کرنے والے ہزاروں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سمیت حب، چمن، واشک، جھل مگسی، لسبیلہ، ژوب، قلات، ہرنائی، شیرانی، پنجگور، زیارت، خاران، موسیٰ خیل، کیچ، کچھی، سوراب، مستونگ، خضدار، اوستہ محمد، دکی، کوہلو، سبی، نوشکی، بارکھان، قلعہ سیف اللہ، جعفر آباد، آواران، قلعہ عبداللہ، چاغی، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی، گوادر اور پشین سمیت تمام اضلاع میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔

انٹرنیٹ کی بندش کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہیں۔ آن لائن کلاسز لینے والے طلبہ نے شکایت کی ہے کہ وہ نہ تو لیکچرز دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اسائنمنٹس جمع کرا سکتے ہیں۔

دوسری جانب کاروباری طبقہ بھی شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔ آن لائن فوڈ سروسز اور پارسل ڈلیوری کرنے والے درجنوں نوجوانوں کا روزگار ٹھپ ہو چکا ہے۔فوڈ سروس ڈلیوری کا کام کرنے والوں کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سروس بند ہونے کے بعد آرڈرز مکمل طور پر رک گئے ہیں، ہمارا کام مکمل طور پر انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔ جب سروس ہی نہیں ہوگی تو ہم لوگوں تک کھانا کیسے پہنچائیں گے؟ ہم جیسے دیہاڑی دار لوگ اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

اسی طرح کورئیر سروس میں کام کرنے والوں کا کہنا تھا کہ روزانہ درجنوں پارسلز آن لائن آرڈر کے ذریعے موصول ہوتے ہیں، مگر انٹرنیٹ نہ ہونے کے باعث اب پورا سسٹم بند پڑا ہے۔ ہمیں آرڈرز نہ ملنے کی وجہ سے آمدنی ختم ہو گئی ہے۔ گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ یہ سب ہماری سمجھ سے باہر ہے۔

اس کے علاوہ صحافی برادری بھی اس صورتحال سے پریشان ہے۔ خبریں ارسال کرنے، ویڈیوز اپ لوڈ کرنے اور عوام کو بروقت معلومات فراہم کرنے میں انہیں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔

عوامی ردعمل اور مطالبات
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سکیورٹی خدشات کے باعث انٹرنیٹ معطل کرنا ایک وقتی قدم سمجھا جا سکتا ہے، لیکن حکومت کو متبادل انتظامات کرنے چاہئیں تاکہ عام شہریوں کا روزگار متاثر نہ ہو۔

شہریوں نے مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کی بندش کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے۔

واضح رہے کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر حکومتِ بلوچستان نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے صوبے بھر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس کو 16 نومبر تک مکمل طور پر معطل کر دیا ہے۔