آرمی چیف کے عہدے کو بلاوجہ موضوع بحث نہ بنایا جائے: ترجمان پاک فوج

آرمی چیف کے عہدے کو بلاوجہ موضوع بحث نہ بنایا جائے: ترجمان پاک فوج
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے کور کمانڈر پشاور کے حوالے سے سینئر سیاستدانوں کے بیانات کو انتہائی نامناسب قرار دیدیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پشاور کور کمانڈر کے حوالے سے  اہم سینئر سیاستدانوں  کے حالیہ بیانات انتہائی نامناسب ہیں، ایسے بیانات سپاہ اور قیادت کے مورال اور وقار پر منفی طور  پر اثر انداز ہوتے  ہیں، سینئر  قومی سیاسی قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ادارے کے خلاف ایسے متنازع بیانات دینے سے اجتناب کریں گے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پشاور کور پاکستان آرمی کی ایک ممتاز فارمیشن ہے، جو دو دہائیوں سے دہشتگردی کیخلاف قومی  جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے، اس اہم کور کی قیادت ہمیشہ بہترین پروفیشنل ہاتھوں میں سونپی گئی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افواج پاکستان کے بہادر سپاہی اور آفیسرز ہمہ وقت وطن کی خودمختاری اور سالمیت کی حفاظت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رہے ہیں،فوج کی قیادت اپنے طور پرپاکستان کی سکیورٹی اور پاکستان کی حفاظت کے لیے مستعدہے، پاکستان اور عوام کی حفاظت پرکسی طورپربھی آنچ نہیں آنےدیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کچھ روز سے سیاسی لیڈرشپ کے بیانات انتہائی نامناسب ہیں جبکہ ہم بار بار درخواست کر رہے ہیں فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے کیونکہ ہمارا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

ان کا کہنا  تھا کہ آرمی چیف کے عہدے پربلاوجہ بات کرنا اس عہدےکو متنازع بنانےکے مترادف ہے، آرمی چیف کے عہدے پربلا وجہ بات کرنا نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ادارے کے مفاد میں، آرمی چیف کے عہدے کو بلاوجہ موضوع بحث نہ بنایا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری کا طریقہ کار آئین میں وضع کیا گیا ہے، آئین وقانون کے تحت آرمی چیف کی تقرری کی جائے گی، بلاوجہ اس عہدے پر بحث کرنا معاملے کو متنازع بنانے والی بات ہے۔