ویب ڈیسک:ملتان میں پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے والے کراچی کے ممتاز عالمِ دین، خطیب اور نعت خواں مولانا محمد اکرم سعیدی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے، جس کی خبر سامنے آنے کے بعد مذہبی و سماجی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔
حادثے کی اطلاع جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر دی گئی تھی، جہاں حادثے کے بعد کی تصاویر بھی شیئر کی گئیں جن میں مولانا محمد اکرم سعیدی شدید زخمی حالت میں دکھائی دیے۔ بعد ازاں ان کے انتقال کی خبر بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی، جس پر کراچی، ملتان اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے علما، طلبہ، عقیدت مندوں اور سماجی شخصیات نے اظہارِ تعزیت کیا۔
مرحوم کراچی کے علاقے گلشنِ حدید میں واقع جامع مسجد اور دارالعلوم دیارِ حبیب میں امام و خطیب کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک قرآن و سنت کی تعلیم، دینی تربیت، خطابت اور نعت خوانی کے ذریعے ہزاروں افراد کی رہنمائی کی اور دینی خدمات سرانجام دیں۔
سوشل میڈیا پر ان کے بیانات، خطابات اور نعت خوانی کی متعدد ویڈیوز بھی شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں وہ عبادت، ذکرِ الٰہی، خدمتِ خلق، عاجزی، برداشت اور باہمی محبت کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ مختلف مذہبی اجتماعات، مزارات اور دینی محافل میں ان کی مستقل شرکت بھی ان کی نمایاں پہچان رہی۔
ان کے شاگردوں، نمازیوں اور عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ مولانا محمد اکرم سعیدی کی وفات سے دینی حلقے ایک باوقار اور بااثر شخصیت سے محروم ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق مرحوم نے اپنی زندگی قرآن و حدیث کی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی، جبکہ ان کی دینی خدمات کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
علمائے کرام نے بھی مولانا محمد اکرم سعیدی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے، جبکہ ان کی نمازِ جنازہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں افراد کی شرکت متوقع ہے۔