ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  برانڈڈ پروڈکٹس Vs سستی اشیا؛پرانی بحث میں جویریہ سعود نے نیا  سوال کھڑاکردیا

Javeria Abbasi, Branded products vs cheep products, city42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: مسئلہ یہ ہے کہ برانڈڈ مہنگی اشیا استعمال کرنے پر تنقید کرنے والے بھی دوہرے روئیوں کے مالک نکلتے ہیں، ایک طرف مہگی اشیا استعمال کرنے پر تنقید کرتے ہیں تو دوسری طرف سادہ، سستی اشیا استعمال کرنے والوں کے ساتھ ایسا رویہ اپناتے ہیں جیسے ان کی تو  کوئی کلاس ہی نہیں۔ بعض لوگ مہگی برانڈڈ پروڈکٹس کو خود پسند کریں نہ کریں لیکن  اس دوہرے رویہ کے لوگوں کو دکھانے کے لئے  برانڈڈ پروڈکس خریدنے پر زیادہ پیسے خرچ کرتے ہیں۔

اداکارہ، رائٹر و گلوکارہ جویریہ سعود نے بتایا ہے کہ ہمارے لوگوں میں برانڈڈ کپڑوں کا بہت زیادہ رجحان ہے جو کہ غلط بات ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جویریہ نے کہا، " اگر برانڈ کے کپڑے نہ پہنوں تو لوگ سوالات کرتے ہیں۔" 

جویریہ نے مزید کہا ہمارے لوگوں کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر کہیں عام سے کپڑے پہن کر چلے گئے یا آپ نے برانڈ نہیں پہنا، یا کوئی سادہ سا  سستا سا ڈریس پہنا ہوا ہے تو وہاں یہ کہا جاتا ہے کہ بھئی "اس میں تو کلاس ہی نہیں ہے۔"

جویریہ سعود  نے ایک ٹی وی شو مین باتیں کرتے ہوئے"سٹیٹس" اور "کلاس" کے متعلق اپنے تصورات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا،  کلاس یہ ہوتی ہے آپ 100 روپے کی چیز پہنیں تو  لاکھوں روپے کے دکھائی دیں، کلاس یہ نہیں ہوتی کہ لاکھوں کے کپڑے پہنے ہوں اور ٹکے کے نہ لگ رہے ہوں۔

سوشل میڈیا پر جویریہ سعود کے ان خیالات پر بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض لوگ جویریہ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں، بہت سے بہرحال برانڈڈ اشیا پر پیسہ خرچ کرنے کو محض نمائش پسندی ہی سمجھتے ہیں۔ 

برانڈڈ اشیا پر ان کی قیمت کے حوالے سے تنقید اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر معیاری پروڈکٹس چاہئیں تو وہ کسی معیاری آؤٹ لیٹ سے ہی ملیں گی۔ خاص طور سے پاکستان مین تو حتیٰ کہ "برانڈ" بھی زیادہ پرافٹ بنانے اور کمپیٹیشن میں آگے دکھائی دینے کو اہمیت دیتے ہیں اور نام خواہ کتنا ہی بڑا ہو جائے معیار گرانے سے بالکل نہیں ہچکچاتے۔  اس وجہ سے بھی پاکستان میں جو لوگ کوالٹی، پرفیکشن اور  جدت کے پرستار ہیں وہ مجبوراً برانڈڈ اشیا کی طرف ہی جاتے ہیں۔