ویب ڈیسک: امریکا کی ریاست میساچوسٹس کے ایکٹن قصبے میں 17سالہ بھارت نژاد نوجوان ارجن اروند پر اپنی 45 سالہ والدہ سدھا وینکٹیشن اور14سالہ بھائی سدھارتھ اروند کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں کی لاشیں ان کے گھر سے ملیں، جبکہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعے سے قبل ارجن نے انٹرنیٹ اور چیٹ جی پی ٹی پر خاندان کے قتل سے متعلق فرضی کہانیوں اور خیالات کی تلاش کی تھی۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات سے قتل کا حتمی محرک ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میسا چوسیٹس پولیس کے تحقیقاتی حکام کے مطابق ملزم نے اس دل دہلا دینے والے واقعے سے قبل انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم ’چیٹ جی پی ٹی‘ پر اپنے خاندان کو قتل کرنے سے متعلق فرضی کہانیوں اور خیالات کی تلاش کی تھی۔ حکام نے بتایا کہ ۱17سالہ ملزم ارجن اروند پر اپنی 45سالہ والدہ سدھا وینکٹیشن اور 14سالہ بھائی سدھارتھ اروند کے قتل کے سلسلے میں قتل کی دو دفعات سمیت شدید تشدد اور گاڑی کی چوری کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔یہ دل دہلا دینے والا واقعہ منگل کی شام اس وقت سامنے آیا جب ارجن کے والد نے پولیس سے رابطہ کر کے اہل خانہ کی خیریت معلوم کرنے کا کہا۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ کافی دیر سے اپنی بیوی اور بچوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں مل رہا، جبکہ گھر آنیوالے ایک ٹیوٹر بھی اندر داخل نہیں ہو سکے تھے۔
مقامی پولیس اطلاع ملتے ہی ایکٹن میں واقع انکی رہائش گاہ پر پہنچی تو انہیں پہلے فلور سے14 سالہ سدھارتھ اور تہہ خانے سے والدہ سُدھا کی لاشیں ملیں۔ دونوں کی لاشوں پر شدید چوٹوں کے واضح نشانات موجود تھے۔تاہم حکام نے ابھی تک قتل کی اصل وجہ اور استعمال ہونیوالے ہتھیار کا انکشاف نہیں کیا ۔معلومات کے مطابق سدھارتھ کو آخری بار منگل کی صبح 7بجے ان کے شوہر نے کام پر جاتے وقت دیکھا تھا، جبکہ سدھارتھ دوپہر کے وقت ایک تفریحی مرکز سے گھر لوٹا تھا۔
اس دل چیرنے والے واقعہ کے حوالے سے ڈسٹرکٹ اٹارنی ماریان رائین نے میڈیا کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران ملزم ارجن کا انتہائی تشویشناک رویہ سامنے آیا ۔ اس نے واقعے سے قبل انٹرنیٹ اور چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے فرضی کرداروں اور ’گوتھک ناول‘ کے انداز میں ایسے نظریات اور کہانیاں تلاش کی تھیں جن کا تعلق اپنے ہی خاندان کو قتل کرنے اور دھمکیاں دینے کی تصوراتی خیالات (fantasies) سے تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات سے قتل کی حتمی وجہ ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ارجن گھر پر موجود نہیں تھا اور وہ اپنی والدہ کی ہونڈا ایکارڈ گاڑی لے کر فرار ہو گیا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر اس کی تلاش شروع کر دی۔ بدھ کی صبح ویلینڈ کے علاقے میں ایک بزنس الارم بجنے پر جب مقامی پولیس وہاں پہنچی تو پارکنگ لاٹ میں کھڑی گاڑی کے اندر سے ارجن کو بغیر کسی مزاحمت کے گرفتار کر لیا گیا۔ ارجن پر گاڑی کی چوری، بغیر اجازت استعمال اور گھریلو افراد پر تشدد کے دیگر الزامات بھی عائد کئےگئے ہیں۔ ابتدائی طور پر اسے جووینائل کورٹ (کم عمر بچوں کیلئے بنائی گئی عدالت ) میں پیش کیا گیا، لیکن میسا چوسیٹس کی قانون سازی کے مطابق قتل کے سنگین مقدمات کی سماعت ڈسٹرکٹ کورٹ میں علحیدہ سے کی جائے گی۔ واضح ہو کہ حکام نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ اس ہند نژاد خاندان ہندوستان کے کس علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔