ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایل ڈی اے سٹی میں اراضی ایکوائر کرنے کا نوٹیفکیشن،حکمِ امتناع میں ستمبر تک توسیع

ایل ڈی اے سٹی میں اراضی ایکوائر کرنے کا نوٹیفکیشن،حکمِ امتناع میں ستمبر تک توسیع
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ایل ڈی اے سٹی میں اراضی ایکوائر کرنے کا نوٹیفکیشن، لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزاروں کی حد حکمِ امتناع ستمبر تک بڑھا دیا.
  لاہور ہائیکورٹ نے ایل ڈی اے سٹی میں اراضی ایکوائر کرنے کے نوٹیفکیشن کے خلاف کیس میں درخواست گزاروں کی زمین ایکوائر کرنے سے روکنے کے حکمِ امتناع میں ستمبر تک توسیع کر دی۔ سماعت جسٹس خالد اسحاق نے شہری فضل دین سمیت 12 درخواست گزاروں کی پٹیشن پر کی۔ پنجاب حکومت اور ایل ڈی اے کے وکلاء نے عدالت میں جواب جمع کروا دیا، جبکہ حکومتی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکمِ امتناع کے باعث منصوبہ متاثر ہو سکتا ہے اور اس کا آج ہی فیصلہ کیا جائے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ "صوبے کی جانب سے کوئی چیز تو رکھی نہیں گئی، کچھ پیش کریں تو سہی، کون سا ڈیم بنانا ہے، کون سا سیلاب آیا ہوا ہے یا بند باندھنا ہے؟"جسٹس خالد اسحاق نے واضح کیا کہ کیس میں صرف درخواست گزاروں کی حد تک تادیبی کارروائی نہ کرنے کا حکم ہے، باقی ایل ڈی اے سٹی منصوبے کا اس مقدمے سے تعلق نہیں۔ عدالت نے کیس ستمبر کے دوسرے ہفتے کے لیے مقرر کر دیا اور فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا۔درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ وہ ایل ڈی اے سٹی کے علاقے میں اراضی کے مالکان ہیں۔ حکومت نے 2011 میں زمین ایکوائر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، اور اب 14 سال بعد 2011 والے نوٹیفکیشن کا تصحیح نامہ جاری کیا گیا ہے، جس میں اس وقت کے کم ریٹ مقرر ہیں، جبکہ موجودہ ریٹ کہیں زیادہ ہیں،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ایل ڈی اے کی جانب سے 2025 میں جاری کیا گیا یہ تصحیح شدہ نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

Ansa Awais

Content Writer