ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرفس پر امریکہ کی  کی دوسری بری پسپائی؛ اب چین بھی ٹیرف سے مستثنیٰ

امریکہ میں مہنگائی کا طوفان اٹھنے کے خدشات اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شدید م ٹرمپ  نے چینی الیکٹرونکس پر ٹیرف روک دیا

Trump Tariff, I Phome imports, Computer Chips, city42
کیپشن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  امریکہ کو پھر سے امیر بنانے کے لئے ساری دنیا پر ٹیرف لگانے کا انوکھا منصوبہ بنایا، اس پر عمل درآمد سے پہلے ہی اس منصوبے نے خود امریکی معیشت کی چولیں ہلا دیں، جب 9 اپریل کو دنیا پر ٹیرف لگایا تو اسی دن چند گھنٹے میں امریکہ نے اندر دباؤ اتنا بڑھا کہ ٹرمپ کو ٹیرف کا نفاذ 90 دن کے لئے معطل کرنے کا اعلان کرنا پڑا، لیکن چین پر ٹیرف انہوں نے مزید بڑھا کر  145 فیصد کر دیا حالانکہ چین کی طرف سے کسی نے ان کی لفظوں کی مسلسل جنگ کا زیادہ جواب بھی نہیں دیا تھا تاہم چین نے امریکی امپورٹس پر ٹیرف ٹرمپ ٹیرف کی تقلید کرتے ہوئے 125 فیصد کر دیا۔  اب امریکہ کے اندر الیکٹرونکس کمپنیوں کے دباؤ پر ٹرمپ چین اور باقی دینا سے امپورٹ کی جانے والی کمپیوٹر چپس سے لے کر سمارٹ فون اور کمپیوٹرز تک بہت کچھ پر  ٹیرف واپس لینے پر مجبور ہو گئے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے  چین، تائیوان اور دیگر ممالک سے امریکہ اپورٹ کئے جانے والے سمارٹ فونز، کمپیوٹر چپس اور کمپیوٹرز کو  اپنے نافذ کردہ ٹیرف سے آزاد کر دیا۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے دنیا پر نافذ کئے اپنے ٹیرف 9 اپریل کو نافذ کرنے کے بعد 9 اپریل کی شام سے پہلے ہی واپس لے لئے تھے اور اعلان کیا تھا کہ اب یہ ٹیرف 90 دن بعد نافذ کریں گے، آج ٹرمپ نے  اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور کچھ دیگر الیکٹرانک آلات کو "باہمی" محصولات سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ یہ استثنیٰ 5 اپریل کی گزری تاریخ سے لاگو ہو گا۔

ٹرمپ انتظمایہ کے اعلان کے مطابق حتیٰ کہ چین سے امریکہ بھیجے جانے والے کمپیوٹر، سمارٹ فون اور کمپیوٹر چپس جیسی کئی الیکٹرونک  پروڈکٹس پر  اب ٹرمپ ٹیرف نہین لگے گا۔

یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پٹرول نے جمعہ کو دیر گئے ایک نوٹس شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ سمارٹ فونز، کمپیوٹر چپس اور کمپیوٹرز کو   اشیا کے زیادہ تر ممالک پر ٹرمپ کے 10 فیصد عالمی ٹیرف اور بہت بڑے چینی درآمدی ٹیکس سے خارج کر دیا جائے گا۔

اس اقدام کے بعد امریکہ میں کمپیوٹر، سمارٹ فونز اور کئی دیگر الیکٹرونک پروڈکٹس جن میں چین اور تائیون سے امپورٹ کی گئی چپس استعمال ہوتی ہیں، ان کی لاگت میں بیٹھے بٹھائے اضافہ کا بحران ٹل گیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے امپورٹس کی اس بہت بڑی کیٹیگری کو ٹیرف سے آزاد اس لئے کیا ہے کہ امریکی ٹیک کمپنیوں نے خدشات ظاہر کئے تھے کہ ٹرمپ ٹیرف کی زد مین آنے کے بعد امریکہ میں سمارٹ فون س اور کمپیوٹر سے لے کر بہت سے کمپیوٹر  گیجٹس کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں، کیونکہ ان میں سے بہت سے چین میں بنتے ہیں یا ان مین چین اور تائیوان سے امپورٹ کی گئی چپس استعمال ہوتی ہیں۔

ٹرمپ ٹیرفسپر امریکہ کی  کی دوسری بری پسپائی؛ اب چین بھی ٹیرف سے مستثنیٰ

سمارٹ فون، کمپیوٹر، کمپیوٹر چپس اور دیگر الیکٹرونک گیجٹس کی چین سے امپورٹ کو ٹیرف سے آزاد کرنے کا اقدام، چین پر ٹرمپ کے محصولات میں کسی بھی قسم کا  پہلا اہم تعطل ہے، ایک تجارتی تجزیہ کار نے اسے "گیم چینجر منظرنامہ" قرار دیا ہے۔


ٹیرف سے یہ استثنیٰ  5 اپریل تک کی تاریخ سے لاگو ہے۔ اس  میں دیگر الیکٹرانک آلات اور اجزاء بشمول سیمی کنڈکٹرز، سولر سیل اور میموری کارڈ بھی شامل ہیں۔

ویڈبش سیکیورٹیز میں ٹیکنالوجی ریسرچ کے عالمی سربراہڈین ایوس نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا،  "یہ ٹیک سرمایہ کاروں کے لیے خوابوں کا منظر نامہ ہے،"، انہوں نے لکھا ،  "اسمارٹ فونز، چپس کو خارج کر دیا جانا گیم چینجر کا منظرنامہ ہے جب بات چین کے ٹیرف کی ہو"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایپل، نیوڈیا، مائیکروسافٹ اور وسیع تر ٹیک انڈسٹری  اس ہفتے کے آخر میں آخر کار سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے اعلان کردہ ٹیرف مین اس بہت بڑے  سیکتر کو مکمل چھوٹ دے دینے کا جواز یہ بتایا کہ  یہ چھوٹ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دی گئی کہ کمپنیوں کو  اپنی پروڈکشن  کو امریکہ منتقل کرنے کے لیے زیادہ وقت ملے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایک بیان میں کہا، "صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ سیمی کنڈکٹرز، چپس، اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس جیسی اہم ٹیکنالوجیز کی تیاری کے لیے چین پر انحصار نہیں کر سکتا۔"

وائت ہاؤس کی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ "صدر کی ہدایت پر، یہ کمپنیاں جلد از جلد اپنی مینوفیکچرنگ کو ریاستہائے متحدہ میں  منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔"

ٹرمپ، جو  ویک اینڈ اپنے فلوریڈا کے گھر میں گزار رہے ہیں،  انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ چین پر زیادہ محصولات سے مطمئن ہیں۔

"اور مجھے لگتا ہے کہ اس سے کچھ مثبت نکلنے والا ہے،" انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ" اپنے تعلقات"کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔

اب تک ٹرمپ کے چین پر ٹیرف سے جو نکلا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ میں سٹاک مارکیٹیں تباہ ہو گئیں، انویسٹرز کے اربوں ڈالر کا نقصان ہو گیا، امریکہ میں چھوٹے برے  کئی ملین بزنس شدید بحران سے دوچار ہو گئے، ٹرمپ کے سب سے زیادہ چندہ دینے والے ڈونر ناراض ہو گئے اور ۔۔۔  چین جانے والی امریکہ کی پروڈکٹس  ایکسپورٹس  کرنے والی کمپنیاں بری طرح برباد ہو گئیں جب کہ چین میں بیجنگ کی سٹاک مارکیٹ اوپر چلی گئی۔

وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف برائے پالیسی سٹیفن ملر نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ یہ الیکٹرانک سامان اب بھی فینٹینیل سے متعلق چین پر 20 فیصد ٹیرف کے تابع ہیں۔

ٹیرف کا یہ استثنیٰ نہ دیتے تو امریکہ میں کیا ہوتا؛ آئی فون کا منفرد کیس

کچھ اندازوں کے مطابق اگر ٹرمپ کی مسلط کی ہوئی تمام لاگت کنزیومر پر ڈال دی جائے تو  امریکہ میں آئی فون کی قیمتیں تین گنا تک بڑھ سکتی ہیں۔

کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے مطابق، امریکہ آئی فونز کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے، جبکہ ایپل کا گزشتہ سال  اسمارٹ فونز کی فروخت میں نصف سے زیادہ حصہ تھا۔  امریکہ میں فروخت کے لیے ایپل کے 80 فیصد آئی فونز چین میں بنائے جاتے ہیں، باقی 20 فیصد  انڈیا میں بنائے جاتے ہیں۔ اس طرح آئی فون کے کیس میں ٹرمپ کے ٹیرف دونوں طرف صرف امریکیوں پر ہی لگ رہے تھے۔ مینوفیکچرر نے چین اور انڈیا میں مینیوفیکچرنگ کا انتظما اس لئے کیا تھا کہ وہاں اسے مینوفیکچرنگ سستی پڑتی ہے، اس طرح کم کاسٹ سے بنا فون امریکہ میں بھی سستا بکتا ہے اور باقی دنیا میں بھی مارکیٹ میں بہتر مقابلہ کرتا ہے، 

اپنے ساتھی اسمارٹ فون کمپنی سام سنگ کی طرح، ایپل بھی حالیہ برسوں میں چین پر زیادہ انحصار سے بچنے کے لیے اپنی سپلائی چین کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارت اور ویت نام اضافی مینوفیکچرنگ ہب کے لیے سب سے آگے ہیں لیکن ٹرمپ نے ویتنام پر بھی  37 فیصد ٹیرف امپوز کئے جو 9 اپریل کو باقی دینا کے ساتھ نافذ ہوئے اور اسی دن معطل بھی ہو گئے۔

جیسا کہ ٹیرف نافذ ہوئے، ایپل نے مبینہ طور پر حالیہ دنوں میں ہندوستان میں تیار کردہ اپنے آلات کی پیداوار کو تیز کرنے اور بڑھانے کی کوشش کی لیکن راتوں رات تو ہارڈ وئیر کی پروڈکشن بڑھانا بھی آسان نہیں نکلا۔

چین کا امریکہ پر ٹیرف برقرار لیکن امریکہ کا چین پر ٹیرف "ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے!"

ٹرمپ نے اس ہفتے سے نافذ ہونے والے دنیا بھر کے ممالک پر بھاری محصولات  وصولنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

لیکن بدھ کو  چند ہی گھنٹے مین امریکہ کے اندر یہ ھال ہو گیا کہ  صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ان ممالک کے لیے 90 دن کے وقفے پر عمل درآمد کریں گے جن پر امریکی محصولات زیادہ ہیں - سوائے چین کے، جن کے محصولات کو انھوں نے 145 فیصد تک بڑھا دیا ہے، اب چین کو بھی استثنیٰ دے دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ چین کے لیے ٹیرف میں اضافہ اس لیے کیا گیا ہے کہ چین نے ٹرمپ کے پہلے لگائے ہوئے  84 فیسد ٹیرف کا جواب امریکہ سے چین بھیجی جانے والی پروڈکٹس پر  84 فیصد ٹریف لگا کر دیا۔

اب ٹرمپ نے چین سے امریکہ آنے والی الیکٹرونک امپورٹس پر تو  145 فیصد ٹیرف ہتا لیا ہے لیکن چین نے امریکہ کی ایکسپورٹس پر جو  125 فیصد ٹیرف   امریکی  125 پرسنٹ ٹیرف کے جواب میں لگایا، اس مین کسی بھی پروڈکٹ کے لئے کوئی لچک نہیں لائی گئی۔

پالیسی کی ایک ڈرامائی تبدیلی میں، ٹرمپ نے کہا کہ وہ تمام ممالک جنہوں نے امریکی محصولات کے خلاف جوابی کارروائی نہیں کی ہے، انہیں ریلیف ملے گا – اور انہیں جولائی تک صرف 10 فیصد کے ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن دو ہی دن بعد ٹرمپ چین کو ہی ریلیف دینے پر مجبور ہو گئے حالانکہ چین نے یہ ریلیف نہ مانگا نہ ہی وہ امریکہ کی کسی کمپنی یا پروڈکٹ کو ریلیف دینے کا عندیہ دے رہا ہے۔

9 اپریل کو ٹیرف لگا کر 9 اپریل کو ہی واپس لے لینے کے متعلق وائٹ ہاؤس نے پھر کہا کہ یہ اقدام دوسرے ممالک سے زیادہ سازگار تجارتی شرائط نکالنے کے لیے ایک مذاکراتی حربہ تھا۔ لیکن اب تک ان ممالک کی فہرست سامنے نہیں آئی جنہوں نے اس نام نہاد  "مذاکراتی حربہ" کے زیر اثر ٹیرف معطل کرنے کی درخواست کی یا مذاکرات کی ٹیبل پر آنے کی درخواست کی، البتہ ان امریکی ارب پتیوں کی کہانیاں ضرور سامنے آئیں جنہیں 9 اپریل کو  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف سے بیٹھے بٹھائے نقصان ہوا اور  وہ اس بات پر تڑپتے رہے کہ ٹرمپ کو سب سے زیادہ چندہ تو انہوں نے ہی دیا تھا۔  

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے درآمدی ٹیکس عالمی تجارتی نظام میں ان کی دانست مین موجود " ناانصافی"  کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمتوں اور فیکٹریوں کو امریکہ میں واپس لائیں گے۔