ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سائنسدانوں نے گنج پن کا  علاج دریافت کرلیا

سائنسدانوں نے گنج پن کا  علاج دریافت کرلیا
کیپشن: File photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وراثتی گنج پن (Hereditary-patterned Baldness) کا ممکنہ علاج ایک خاص قسم کی شکر (ڈی آکسی رائبوز) سے ممکن ہے، جو نہ صرف قدرتی طور پر جسم میں موجود ہوتی ہے بلکہ ڈی این اے کے ڈھانچے کا اہم حصہ بھی ہے۔

 
 معروف سائنسی جریدے Frontiers in Pharmacology میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا کہ شکر بالوں کے follicles تک خون کی رسد بڑھا کر دوبارہ بال اگانے میں مدد دے سکتی ہے۔

تحقیق کی شریک مصنفہ شیلا میک نیل کے مطابق " گنج پن دنیا بھر میں لاکھوں مردوں کو متاثر کرتا ہے، مگر فی الوقت صرف دو ایف ڈی اے منظور شدہ دوائیں دستیاب ہیں۔ ہماری تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ایک سادہ قدرتی شکر گنج پن کے علاج میں انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔"

تحقیق کیسے ہوئی؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تحقیق ابتدا میں بالوں کے لیے نہیں بلکہ زخم بھرنے کے عمل پر کی جا رہی تھی۔ چوہوں پر کی گئی اس تحقیق کے دوران محققین نے دیکھا کہ جن چوہوں کو ڈی آکسی رائبوز دی گئی، ان کے زخموں کے اطراف کے بال نسبتاً جلد اور زیادہ واپس آئے۔

اس مشاہدے کے بعد ٹیم نے جان بوجھ کر چوہوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی بنیاد پر بالوں کے گرنے کا تجربہ کیا (جیسا کہ انسانوں میں ہوتا ہے)، اور پایا کہ جنہیں یہ شکر دی گئی ان میں بالوں کی دوبارہ نشوونما میں واضح فرق آیا۔

فی الحال مارکیٹ میں بال اگانے کے لیے Minoxidil جیسی مہنگی دوائیں دستیاب ہیں، جو ہر ماہ 30 سے 40 ڈالر تک کی پڑتی ہیں، جبکہ تحقیق کے مطابق ڈی آکسی رائبوز اتنی ہی مؤثر، لیکن سستی اور محفوظ ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف محمد یار کے مطابق یہ شکر نہ صرف سستی ہے بلکہ مختلف شکلوں (جیسے کریم، محلول، اسپرے) میں دی جا سکتی ہے، جو اسے مزید قابل تحقیق اور قابل استعمال بناتی ہے۔

اگرچہ تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، مگر محققین کا کہنا ہے کہ یہ محض ابتدائی مرحلہ ہے اور مزید تجربات کی ضرورت ہے تاکہ انسانی استعمال کے لیے اس کی مؤثریت اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

شیلا میک نیل کا کہنا تھا "یہ تحقیق ابتدائی سطح پر ہے لیکن اگر اسے مزید آگے بڑھایا جائے تو یہ گنج پن کے شکار لاکھوں افراد کی خوداعتمادی بحال کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔"