مہنگائی سے پریشان عوام کیلئے ایک اور بری خبر

مہنگائی سے پریشان عوام کیلئے ایک اور بری خبر

فیروز پور روڈ (شہزاد خان، نبیل ملک) یوٹیلیٹی سٹورز پر بھی گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، درجہ اول گھی 21 روپے مہنگا، خوردنی آئل 19 روپے اضافے کیساتھ 262 کا ہوگیا، 170 روپے کلو والا سستا گھی غائب،یوٹیلیٹی  سٹورز پر سستے گھی اور کوکنگ آئل کی فراہمی یقینی نہ بنائی جا سکی۔

ایک ہفتہ سے شہر کے یوٹیلیٹی سٹورز سے سستا گھی اور آئل غائب ہے، ذرائع کے مطابق   یوٹیلیٹی سٹورز کو گھی فراہم کرنے والی کمپنی نے قیمت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے جس پر ڈیڈ لاک برقرار ہے کیونکہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے مطابق قیمت بڑھا دی تو ریلیف کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا، اسی ڈیڈ لاک میں7 دن گزر گئے ہیں اور سستے گھی کی فراہمی نہیں ہو سکی ہے۔

 دوسری طرف یوٹیلیٹی سٹورز پر ڈالڈا گھی اور آئل کی قیمت 21 روپے اضافے کے بعد 262 روپے کلو ہو گئی ہے، مہنگائی کی نئی لہر پر شہریوں نے سر پکڑ لیا، گھی فراہم کرنے والی کمپنی نے قیمت بڑھانے کیلئے سپلائی روک دی۔

علاوہ ازیں چینی کی قلت دور نہ ہوسکی، قیمتیں بھی بدستور 95 سے 100 پر برقرار ہے، شہر میں تاحال طلب کے مطابق چینی کی سپلائی کو یقینی بنایا جاسکا، گزشتہ ہفتے چینی کی قیمتوں 10 سے 15 روپے فی کلو تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 چینی کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے پر شہریوں کی جانب سے تشویش کا اظہار بھی کیا گیا مگر حکومتی ایکشن لینے کے باوجود چینی کی قیمتیں کم نہ ہوسکیں، تاحال چینی شہر میں 90 روپے سے  100 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جارہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بنیادی اشیائے ضروریہ عوام کی دسترس میں رکھنے کیلئے اقدامات کریں۔ 

چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے اکبری منڈی کے شوگر ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ملز مالکان نے دانستہ طور پر چینی کی سپلائی کم کی جس سے قیمتیں بڑھیں تاہم شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اس مؤقف کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گنے کی قیمت 220 روپے فی من مگر گنا 270 روپے فی کلوگرام کے حساب سے مل رہا ہے، اس لئے قیمتیں بڑھیں۔

شہر بھر کی چھوٹی بڑی مارکیٹوں میں کوئی بھی پھل، سبزی سرکاری نرخ نامے پر دستیاب نہیں، ٹماٹر 5 روپے، سبز مرچ 5 روپے، پیازایک روپیہ مہنگا ہوگیا۔ شہر میں سیب 2 روپے کمی کے بعد 130 روپے کلو لیکن اوپن مارکیٹ میں 150 سے 170 تک، جبکہ امرود 120 روپے، کیلا 3 روپے کمی کے بعد 120 روپے، انگور 200 روپے، فروٹرایک روپیہ کمی کے بعد 100 اور کینو 100 روپے فی کلو تک فروخت کیے جارہے ہیں، سبزیوں میں آلو 50 روپے، ٹماٹر 5 روپے اضافے کے بعد 100 روپے، لہسن 300 روپے، ادرک بھی 310 روپے تک فروخت کیا جارہا ہے جبکہ دیسی لیموں مارکیٹ سے غائب ہے، سرکاری نرخ نامے اور اوپن مارکیٹ کے ریٹس میں فرق سے لاہوریوں کو مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے۔

دریں اثناء برائلر 6 روپے سستا ہوگیا،انڈوں کی قیمت مسلسل تیسرے روز بھی 174 روپے فی درجن پر مستحکم رہی۔ سرکاری نرخنامے کے مطابق شہر میں برائلر مرغی 2 دن میں 16 روپے سستی ہوئی، مرغی کا گوشت 6 روپے کم ہو کر 222 روپے کلو ہو گیا، اوپن مارکیٹ میں انڈے 190 سے 200 روپے فی درجن تک فروخت ہوتے رہے۔30  درجن فارمی انڈوں کی پیٹی کی قیمت مسلسل تیسرے روز بھی 5100 روپے پر مستحکم رہی تاہم فارمی انڈوں کے مقابلے میں دیسی انڈوں کی آج بھی اونچی اُڑان برقرار رہی، 400 روپے فی درجن میں فروخت ہوتے رہے۔

چھوٹے بڑے بازاروں میں لاہوریوں سے سردیوں کی سوغات مچھلی کے من مانے ریٹ وصول کئے جاتے رہے۔ کالا رہو مچھلی 250 سے 300 روپے کلو، کھگا مچھلی 250 سے 300 روپے کلو، ملہی مچھلی 400 سے 500 روپے کلو، بام مچھلی 350 سے 400 روپے کلو، سوہل مچھلی 1000 سے 1200 روپے کلو، پمفلٹ مچھلی 1200 سے 1400 روپے کلو، چڑا مچھلی 240 سے 300 روپے کلو میں فروخت ہوتی رہی۔ کھلے دودھ کی 90 سے 100 روپے کلو میں فروخت جاری رہی جبکہ دہی 110 روپے فی کلو میں فروخت ہوتی رہی۔