ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سابق امریکی صدر کے بیٹے نے نیتن یاہو کو ”شیطان کا روپ‘‘ قرار دیدیا

سابق امریکی صدر کے بیٹے نے نیتن یاہو کو ”شیطان کا روپ‘‘ قرار دیدیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے  اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمین نیتن یاہو کو ”شیطان کا روپ“ (evil incarnate) قرار دیتے ہوئے معروف صحافی ٹکر کارلسن کی اس بات کے ساتھ اتفاق کیا کہ اسرائیلی حکومت پر تنقید، سام دشمنی کے مترادف نہیں ہے۔ ان کے ان تبصروں نے آن لائن شدید ردِعمل کو جنم دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد صارفین نے ہنٹر بائیڈن کو یاد دلایا کہ ان کے والد جو بائیڈن کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے تل ابیب کو مسلسل ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھتے ہوئے اسرائیل کو غزہ پر اپنی جنگ جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔اس انٹرویو میں صحافی کارلسن جو امریکی دائیں بازو کی سب سے ممتاز آوازوں میں سے ایک ہیں اور ہنٹربائیڈن  جو طویل عرصے سے قدامت پسندوں کی تنقید کا نشانہ رہے ہیں، دونوں نے نیتن یاہو اور اسرائیل کی مذمت میں ایک موقف پر اتفاق کیا۔ ہنٹر بائیڈن حال ہی میں میڈیا کے ساتھ انٹرویوز کے غیرمعمولی سلسلے میں مصروف رہے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، انہوں نے اپنے والد کی صحت کے بارے میں گفتگو کی اور انکشاف کیا کہ سابق صدر کا کینسر ان کی ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کارلسن کے ساتھ انٹرویو کے دوران، گفتگو کا زیادہ تر حصہ خود ہنٹر بائیڈن سے جڑے تنازعات پر مرکوز رہا۔ ان تنازعات میں انکی ماضی کی منشیات کی لت اور لیپ ٹاپ اسکینڈل، جو بائیڈن خاندان کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار بن گیا تھا، شامل ہیں جس کے بعد گفتگو کا رخ اسرائیل کی طرف مڑ گیا۔ کارلسن نے دعویٰ کیا کہ جس وقت لیپ ٹاپ تنازع سامنے آیا، اس وقت اسرائیلی شخصیات یا اسرائیل سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کے سامنے یہ دعوے پیش کئے تھے کہ اس ڈیوائس میں کمسن بچوں کے ساتھ بدسلوکی کو ظاہر کرنے والا مواد موجود ہے۔ کارلسن نے نے کہا کہ کمپیوٹر پر نابالغوں کے ساتھ بدسلوکی پر مشتمل مواد موجود ہونے کا دعویٰ اسرائیلیوں کی طرف سے آیا تھا۔ میں صرف آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ وہ اسے لے کر میرے پاس آئے تھے اور اس طرح مجھے یہ معلوم ہوا۔

کارلسن اور بائیڈن کےہنٹر کےاس انٹرویو نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ اسرائیل اور نیتن یاہو پر تنقید  اب روایتی امریکی سیاسی حدود کو عبور کر چکی ہے، جو اب صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے تک محدود نہ رہتے ہوئے پاپولسٹ دائیں بازو اور ”امریکہ فرسٹ“تحریک کے اندر بھی مقبولیت حاصل کر رہی ہے، جس کے کارلسن ایک اہم لیڈر ہیں۔ اگرچہ بائیڈن اور کارلسن سیاسی طور پر ایک دوسرے کے مخالف ہیں، لیکن اس دعوے کو مسترد کرنے پر ان کا متفق ہونا کہ نیتن یاہو پر تنقید کرنا فطری طور پر سامیت(Antisemitism) دشمنی ہے، اسرائیل کے بارے میں امریکی سیاسی رویوں میں ایک وسیع تر تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔