ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایک کروڑ 70 لاکھ باؤنس چیک کیس میں تفتیشی افسر کل ہائیکورٹ طلب

ایک کروڑ 70 لاکھ باؤنس چیک کیس میں تفتیشی افسر کل ہائیکورٹ طلب
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کے باؤنس چیک کے مقدمے میں تفتیشی افسر کو کل ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ عدالت نے ملزم کے طرزِ عمل پر بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملزم گزشتہ تین سال سے درخواست ضمانت دائر کررہا ہے اور پھر عدم پیروی پر درخواست خارج کروا رہا ہے۔

جسٹس غلام سرور نہنگ نے ملزم سکندر حیات کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ملک عمر طاہر عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ملزم کی جانب سے وکیل نے ضمانت کے حصول کے لیے دلائل دیے۔سماعت کے دوران عدالت نے ملزم کے طرزِ عمل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "آپ کے مؤکل نے تو سسٹم کو مذاق بنایا ہوا ہے۔"جسٹس غلام سرور نہنگ نے ریمارکس دیے کہ ملزم گزشتہ تین سال سے ضمانت کی درخواستیں دائر کررہا ہے اور چار مرتبہ درخواست ضمانت عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کروا چکا ہے۔
،عدالت نے تفتیش کے حوالے سے پولیس کی کارروائی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے تفتیشی افسر سے متعلق استفسار کیا کہ "پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے ابھی تک کیا کیا؟"مقدمے کے مطابق مدعی نے گرین ٹاؤن میں مکان خریدنے کے عوض ملزم کی جانب سے ایک کروڑ 50 لاکھ روپے کا چیک دیا گیا جو باؤنس ہوگیا، جس پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ کیس میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کی رقم کا معاملہ عدالت کے سامنے زیر بحث آیا۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی جانب سے ادائیگی کردی گئی ہے، دستاویزات پیش کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔
وکیل کے دلائل پر جسٹس غلام سرور نہنگ نے کہا کہ "ٹھیک ہے، تفتیشی افسر کا ریکارڈ چیک کر لیتے ہیں۔"
عدالت نے مقدمے کے تفتیشی افسر کو مکمل ریکارڈ سمیت کل طلب کرلیا اور ملزم کی درخواست ضمانت پر مزید سماعت 12 اگست تک ملتوی کردی۔

Ansa Awais

Content Writer