سٹی42: وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ کسی مجرم کی سزا احتجاج سے ختم نہیں ہوسکتی،9 مئی کے ذمہ داروں کو قانون کا سامنا کرنا ہوگا،
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نےکہا ہےکہ پی ٹی آئی نے جو بویا ہے وہ کاٹ رہے ہیں، 9 مئی سانحہ کے ذمہ داروں کو قانون کا سامنا کرنا ہوگا،کسی بھی مجرم کی سزا احتجاج سے ختم نہیں ہوسکتی۔
سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پی ٹی آئی کے بعض ارکان پارلیمنٹ سمیت کئی افراد کو نو مئی 2023 کے پر تشدد واقعات کے مقدمات میں سزائین ہونے کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیمار اہلیہ کا مذاق اُڑایا گیا لیکن ہم نے قانون کا سامنا کیا۔ یہاں 9 مئی کو ملک بھر میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، سازش کے ذمہ داروں کو اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنا ہوگا۔
وزیر قانون نے کہا کہ 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ، حساس مقامات کو نذر آتش کرنے اور توڑ پھوڑ کرنے میں ملوث افراد کی فوٹیجز سب نے دیکھی ہیں، ان (پی ٹی آئی) کی اعلیٰ قیادت کی تصویریں اور ویڈیوز بھی سامنے آئیں، جناح ہاؤس سمیت دیگر املاک کو نقصان پہچانے کے مناظر سب نے ٹی وی سکرینز پر دیکھے۔ اس ملک میں قانون بھی موجود ہے، اگر کوئی جرم کرے گا تو پھر اسے قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ انہوں نے جو بویا ہے اب وہ کاٹ رہے ہیں، ان کے دورِ حکومت میں ہماری قومی اسمبلی کی پہلی لائن جیلوں میں تھی، سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی بیمار اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر پاکستان آئے اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا، قومی اسمبلی میں ہمارے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف 2 بار جیل گئے، پنجاب اسمبلی میں ہمارے قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو 2 سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا۔ حنیف عباسی لائسنس اور طے شدہ کوٹے کے تحت کام کر رہے تھے، ان کی کی بزنس ایکٹیویٹی کو "نارکوٹکس" میں تبدیل کر کے انہیں قید کی سزا دی گئی، شکر ہے انہیں سزائے موت نہیں ہوئی۔ حنیف عباسی اسی سزا کے نتیجے میں کئی مہینے جیل میں رہے۔ ضمانت ہو جانے کے باوجود انہیں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ بعدازاں انہوں نے بھی عدالت سے ہی ریلیف حاصل کیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم ان (پی ٹی آئی) کے ساتھ اظہار ہمدردی تو کر سکتے ہیں لیکن قانونی طور پر انہیں ریلیف عدالتوں سے ہی ملنا ہے، یہ معاملات اس ایوان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزاؤں سے اختلاف ہے، ہو سکتا ہے وہ درست ہوں اور ہو سکتا ہے وہ درست نہ ہوں، تاہم انہیں قانون کا سامنا کرتے ہوئے اپیلیں دائر کرنا ہوں گی، عدالتیں اسی کے مطابق فیصلے کریں گی۔