ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی میں  ٹریفک حادثات کو لسانی فسادات کروانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے

 City42, Karachi communal violence, MQM, Altaf Hussain, Afaq Ahmad, Shahi Syed, Awami National Party
کیپشن: File Photo جمعرات کو کراچی مین شر پسندوں نے بیک وقت 10 بڑی گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔ ان گاڑیوں کا تعلق شہر میں ایک ہی لسانی کمیونٹی سے تھا۔ 1980 کی دہائی میں شہر مین فساد کی آگ بھڑکانے والوں نے بھی ٹریفک حادثات کو بنیاد بنا کر ایک لسانی گروہ کے خلاف تشدد بھرکایا تھا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 سٹی42:  کراچی میں  ٹریفک حادثات کو لسانی فسادات کروانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ شہر میں  ہونے والے ٹریفک حادثات لسانی تشدد نہیں ہیں بلکہ افراد کی نااہلی  اور انتظامی نا اہلی ہیں۔

 یہ باتیں عوامی نیشنل پارٹی کے کراچی کے لیڈر  شاہی سید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔  ایم کیو ایم پاکستان کے سینئیر رہنما بھی اس موقع پر شاہی سید کے ساتھ موجود تھے۔

 شاہی سید نے کہا کہ کراچی میں ایک بار پھر لسانی فسادات کی کوشش کی جارہی ہے، ٹریفک حادثات کو لسانی رنگ نہ دیا جائے، شرپسند عناصر کے ہاتھوں ٹرانسپورٹ کا جلایا جانا حکومت اور ریاست کی رٹ پر سوالیہ نشان ہے۔

شاہی سید نے کہا کہ کراچی میں لسانی فسادات کروانے  کی  کوشش کو ناکام بنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے، کراچی کے امن کو تباہ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔

شاہی سید نے ڈمپرز جلانے کے بار بار ہو رہے واقعات کو لسانی فسادات کروانے کی منظم  کوشش قرار  دیا۔
انھوں نے کہا کہ کراچی شہر ہم سب کا ہے۔ ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا۔

شاہی سید نے کہا کہ کراچی کے عوام افواہوں پر کان نہ دھریں اور باہمی محبت کو فروغ دیں۔ کراچی کا امن ہم سب کا امن ہے، اسے برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

دو دن پہلے بھی شاہی سید نے  شہر کے کچھ حصوں میں کئی ڈمپرز جلانے کے واقعے کو لسانی فسادات کی کوشش قرار دیا تھا۔

 ڈمپر جلانا کس کا ایجنڈا

1980 کی دہائی میں الطاف حسین کے دست راست کی حیثیت سے کراچی میں لسانی فسادات اور نام نہاد مہاجر کاز  کے نام سے تشدد کی آگ بھڑکانے والے آفاق احمد کئی مہینوں سے کراچی مین ٹریفک کے معمولی حادثات میں "بڑی گاڑی" اور "ڈمپر" کے ملوث ہونے کا منظم پروپیگندا کر رہے تھے۔ انہوں نے اور ان کے کارکنوں نے ٹریفک کے ہر حادثہ کو مخصوص پروپیگنڈا ٹولز استعمال کر کے لسانی گروہ کے ساتھ جوڑا، اس مسلسل پروپیگنڈا کا خوفناک نتیجہ گزشتہ  جمعرات  10 اپریل کو  شہر مین دس بری گاڑیاں جلائے جانے کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ تمام گاڑیاں ایک افواہ کے بعد جلائی گئیں، افواہ ایک ڈمپر کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں  ایک شخص کے زخمی ہو جانے پر پھیلائی گئی تھی۔

آفاق احمد کو پولیس نے کچھ ہفتے پہلے ڈمپروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے پر تشدد پھیلانے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا تھا  لیکن بعد مین انہین رہا کر دیا گیا اور اس کے بعد جمعرات کو تشدد کا بڑا واقعہ ہوا جس نے بہت سے لوگوں کو ایک بار پھر  1980 کی دہائی کی لسانی فساد  کی ابتدا یاد دلا دی۔