سٹی42: خیبر پختونخوا میں کیاؤس مزید بڑھ گیا۔ گورنر نے اب تک وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کیا اور وزیراعلیٰ گھر جا کر بیٹھ گئے ہیں۔ حکومت کا نظام عملاً بیوروکریسی چلا رہی ہے۔
پشاور سے آنے والی خبروں کے مطابق خیبر پختونخوا میں جاری کیاؤس میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب سپیکر نے متنازعہ اقدام کرتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس بلا لیا جس کا ایجنڈا یہ بتایا گیا کہ "نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب" کرنا ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ قبول نہیں کیا۔

علی امین گنڈاپور کی جگہ کون لے گا
خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ اب تک منظور نہیں ہوا لیکن وہ بتا رہے ہیں کہ اب وہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے مزید کام نہیں کریں گے۔ جلد یا دیر سے جب بھی علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور ہو، اس کے بعد یہ سوال ہے کہ علی امین گنڈاپور کے بعد وزیراعلیٰ کون ہو گا یہ ایک پیچیدہ سوال بن چکا ہے۔ صوبے کے تمام آزاد ارکان اسمبلی عملاً آزاد ہیں اور آزاد ارکانِ اسمبلی کے کئی بلاک بنتے نظر آ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا وجود ختم ہو گیا
الیکشن کمیشن کی جانب سے کچھ دن پہلے تک تک پی ٹی آئی کے رکن تصور کئے جانے والے تمام ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کو آزاد رکن قرار دے دیئے جانے کی قانونی کارروائی کے بعد وفاق اور دوسرے صوبوں کے ساتھ خیبر پختونخوا میں بھی پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اب کوئی وجود ہی نہیں رہا ۔ علی امین گنڈاپور کے وزارت اعلیٰ چھوڑنے کے اعلان کے بعد سے اب تک پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے کوئی اجلاس نہیں ہوا۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں پختونخوا کی اپوزیشن پارٹیوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان اور آزاد ارکان اسمبلی اپنے طور پر ایک دوسرے سے رابطے کر رہے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق ُیبر پختونخوا اسمبلی مین آزاد ارکان کے کئی بلاک بنتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب تک آزاد ارکان کا ایک بھی رسمی اجلاس ہونے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی تاہم خفیہ ملاقاتوں اور فون پر رابطوں کا سلسلہ عروج پر ہے۔
اپوزیشن کی حکومت بننے کے امکانات روشن ہیں، رانا ثنااللہ
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب سے متعلق پی ٹی آئی کےلیےکافی مشکلات ہیں، اپوزیشن کی حکومت بننے کے امکانات روشن ہیں۔
رانا ثنااللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں کسی کی بھی حکومت ہو، وہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔ بانی پی ٹی آئی دہشت گردوں کےخلاف آپریشن کی مخالفت کررہےہیں۔علی امین بانی کےحکم کی تعمیل نہیں کررہے تھے ۔
رانا ثنا اللہ نے کہا، پی ٹی آئی میں بہت زیادہ گروپنگ ہے، مختلف گروپوں نےایک دوسرے کولتاڑا ہےاوراختلافات ہیں۔
پشاور اسمبلی سیکریٹریٹ کا متنازعہ اعلامیہ
خیبر پختونخوا میں کیاؤس اور بے یقینی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب خیبر پختونخوا اسمبلی کے سیکریٹریٹ سے یہ اعلامیہ جاری ہوا کہ "نئے وزیراعلی کے انتخاب" کیلئےخیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 13اکتوبر بروز پیر صبح 10بجے ہو گا۔
اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے نئے شیڈول کا باضابطہ اعلامیہ جاری کیا گیا،اعلامیے کے مطابق 13اکتوبر کو ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں نئے قائد ایوان کا انتخاب کیا جائے گا۔
آئین کیا کہتا ہے
آئینی ماہرین کے مطابق آئینی صورتحال یہ ہے کہ گورنر کی جانب سے وزیراعلیٰ کے استعفے کو قبول کرنے کا نوٹیفیکیشن ہونے تک موجودہ وزیراعلیٰ اپنے عہدہ پر برقرار ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ کی موجودگی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے اجلاس بلائے جانے کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔
آئینی صورت حال یہ ہے کہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اپنے عہدہ پر برقرار ہیں۔ ان کی موجودگی میں سپیکر کے ایما پر صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ کا "نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب" کے لئے اجلاس طلب کرنا اور اس اجلاس طلب کئے جانے کا تحریری اعلامیہ جاری کرنا آئینی ماہرین کی طرف سے متنازعہ عمل تصور کیا جا رہا ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کل اتوار کے روز اور پرسوں خیبر پختونخوا میں کیاؤس مزید بڑھ جائے گا۔