احمد منصور :وفاقی دارالحکومت کے علاقے جی الیون کچہری کے باہر منگل کو ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 20 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، دھماکے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے سخت ردعمل میں کہا ہے کہ یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب بھی حالتِ جنگ میں ہے۔
وزیر دفاع نے سماجی رابطے کی سائٹ ”ایکس“ پر جاری پوسٹ میں کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاک فوج صرف سرحدی علاقوں یا بلوچستان کے دور دراز حصوں میں لڑ رہی ہے، وہ جاگ جائیں، آج اسلام آباد کی ضلعی کچہری میں ہونے والا خودکش حملہ ایک ”ویک اپ کال“ ہے، جو یاد دلاتا ہے کہ یہ جنگ پورے پاکستان کی ہے۔
ھم حالت جنگ میں ھیں کوئ یہ سنجھے کہ پاک فوج یہ جنگ افغان پاکستان سرحدی علاقے میں اور بلوچستان کے دور دراز علاقے میں لڑرہی ھے تو آج اسلام آباد ضلع کچہری میں خود کش حملہ wake up call ھے کہ یہ سارے پاکستان کی جنگ ھے جسمیں پاک فوج روز قربانیاں دے رہی ھے اور عوام کو تحفظ کا احساس دلا… — Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 11, 2025
خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج روزانہ اپنی جانیں قربان کر رہی ہے تاکہ عوام کو تحفظ اور اعتماد کا احساس ملے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کابل حکمرانوں سے کامیاب مذاکرات کی زیادہ امید رکھنا بے فائدہ ہے۔
ان کے مطابق افغان حکومت اگر چاہے تو پاکستان میں دہشت گردی کو روک سکتی ہے، مگر اسلام آباد تک دہشت گردی لانا ایک واضح پیغام ہے، جس کا پاکستان بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ جی الیون کچہری کے باہر منگل کی دوپہر ایک زوردار خودکش دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملہ بھارتی اسپانسرڈ افغان طالبان کی پراکسی تنظیم کی جانب سے کیا گیا، دھماکے کے بعد مبینہ خودکش حملہ آور کا سر سڑک پر پڑا ہوا ملا۔
ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کیا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے،پولیس اور حساس اداروں نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور امن کی خاطر ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اور دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آخری حد تک لڑی جائے گی۔