موبائل فونز سستے،موبائل کالز، انٹرنیٹ پیکجز مہنگے کرنے کا فیصلہ

(سٹی42)آج پیش ہونے والے بجٹ میں عوام پر مہنگائی کے نئے بم گرانے کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کے ساتھ بھی حکومت ہاتھ کرگئی،25 کی بجائے 10 فیصد ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ جس کوایپکاپنجاب نے مسترد کردیا،بجٹ میں موبائل صارفین کوبھی مدنظررکھتے فونز سستے،کالز اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نےآج  8487 ارب کا بجٹ پیش کردیا،بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کردیا گیا،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے پر ایپکا پنجاب نے مسترد کردیا،جنرل سیکرٹری ایپکا لاہور ڈویژن ایم ضیا اللہ چودھری کا کہنا ہے کہ مہنگائی تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے ۔

مزید پڑھئے: بجٹ میں 10 فیصد اضافہ نامنظور؛ ایپکاملازمین کا اہم مطالبہ سامنے آگیا

جبکہ  وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہناتھا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ پن کی صورتحال کا سامنا تھا،ہمیں ادائیگیاں کرنی پڑھیں ورنہ ملک ڈیفالٹ کر جاتا۔بجٹ خسارہ ساڑھے 6 فیصد تھا جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھا۔کرنٹ اکاﺅنٹ کا خسارہ 20 ارب ڈالر کی سطح پر تھا۔ 20 ارب کے کرنٹ خسارے کو سرپلس میں تبدیل کیا گیا۔

20 ارب کے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کو اپریل 2021 میں سرپلس کیا گیا۔کورونا کی تیسری لہر میں بڑے پیمانے پر کاروبار کی بندش سے اعتراض کیا۔کورونا کی وجہ سے معیشت کو مستحکم کرنے میں وقت لگا۔

نئے بجٹ کے بعد موبائل فون سستے جبکہ موبائل کال مہنگی ہوجائے گی، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تین منٹ سے لمبی موبائل فون کالز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، علاوہ ازیں انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال اور ایس ایم ایس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہناتھاکہ موبائل فونز پر موجودہ ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح ساڑھے بارہ فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کیا جائے گا،حکومت  نے  ای کامرس کو سیلز ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے،موبائل سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس 8 فیصد تک بتدریج کم کیا جائے گا۔