حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کے اعلان کے بعد غزہ میں کشیدگی اچانک بڑھ گئی۔ اسرائیل کی جنوبی سرحد پر IDF نے الرٹ کی سطح کو بڑھا دیا اور غزہ کی سرحد پر اپنی فورسز کو مزید بڑھا دیا ہے۔
حماس کے اعلان کے بعد کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو اگلے نوٹس تک ملتوی کر رہی ہے، آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس نے الرٹ کی سطح کو بڑھا دیا ہے اور جنوبی کمان میں فوجیوں کے لیے چھٹی منسوخ کر دی ہے۔
اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ جنگی فوجی اور دیگر ضروری یونٹ علاقے میں تعینات رہیں گے اور انہیں چھٹی پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مزید برآں، IDF کنے بتایا ہے کہ وہ غزہ کی سرحد پر دفاعی مشن انجام دینے کے لیے "نمایاں طور پر" قوتوں کو تقویت دے رہا ہے۔
اسرائیل کی فوج کا یہ اقدام پیر کے روز حماس کے اسرائیل کے مزید یرغمالیوں کی رہائی (اگلی قسط اس ہفتے کے روز) روکنے کے اعلان کے بعد آئی ڈی ایف کے تازہ جائزے کے بعد سامنے آیا ہے۔
حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے پیر کے روز اچانک یہ بیان دیا کہ اسرائیل کی جانب سے اب تک جنگ بندی معاہدہ کے مطابق واجب تمام اقدامات نہیں کئے گئے۔ جب تک یہ تمام اقدامات نہیں کئے جاتے وہ مزید یرغمالیوں کو رہا نہین کرے گی۔
دوحہ میں طے شدہ سیزفائر ڈیل کے پہلے مرحلہ میں حماس نے 33 یرغمالیوں کو نام نہاد انسانی بنیادوں پر پہلے رہا کرنے کی حامی بھری تھی۔ ان میں سے 16 رہا ہو چکے ہیں اور 17 کی رہائی تین تین کر کے ہونا باقی ہے۔ طے شدہ معاہدہ کے مطابق ہر ہفتے کے روز حماس تین یرغمالی اور اسرائیل ان کے بدلے طے شدہ تعداد میں (اندازاً 180 سے زائد) فلسطینی سکیورٹی قیدی رہا کر رہا ہے۔
حماس کے ہوسٹیج ڈیل پر عملدرآمد روکنے کے اعلان کے بعد اسرائیل کی حکومت کی جانب سے کوئی رسمی ردعمل اب تک سامنے نہیں آیا تاہم اسرائیل کے اندر یرغمالیوں کی واپسی کے لئے حکومت پر دباؤ میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔