سٹی42: بلغاریہ کے وزیراعظم نے ملک میں احتجاجی مظاہروں کے بڑھنے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔
بلغاریہ کے وزیراعظم نے ملک بھر میں کئی ہفتوں سے جاری حکومت مخالف احتجاجات کے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے باعث استعفی دیا۔
وزیرِ اعظم روزن ژیلیازکوف نے حکومتی عہدوں س کے ساتھ اپنی سیاسی جماعت کے بھی عہدے کو چھوڑ دیا ہے۔
عوامی احتجاج اور مظاہرے اس وقت زور پکڑنے لگے تھے جب حکومت نے 2026ء کےنئے بجٹ کی تجاویز پیش کیں، نئے بجٹ میں ٹیکس اور عوام پر مسلط سوشل سیکیورٹی کے اخراجات میں ہوشربا اضافہ کیا گیا تھا۔
بلغاریہ کی اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ تھا کہ حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کے بجائے کرپشن کو کم کرے۔ اپوزیشن اٹھتے بیٹھتے یہ بات کر رہی تھی کہ کرپشن نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔
حکومت کے مخالفین کا کہنا تھا کہ ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ کرکے کرپشن کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بجٹ کے سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے خلاف احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔یہ پرتشدد مظاہرے صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہے ہیں بلکہ درجنوں شہروں میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ یہاں تک کہ حکومت کو بجٹ تجاویز واپس لینا پڑیں۔
بجٹ پر اس پسپائی کے بعد سے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوگیا تھا۔ وزیراعظم نے اعتماد کے ووٹ کی طرف جانے کی بجائے آج مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے یہ اعلان ٹیلی وژن پر عوام سے خطاب میں کیا۔
بلغاریہ میں گزشتہ 4 برس کے دوران 7 بار الیکشن ہوچکے ہیں اور گزشتہ چند برسوں میں جتنی حکومتیں بنیں وہ غیر مستحکم رہیں اور تحلیل ہوتی رہیں۔
امکان ہے کہ جلد نئے انتخابات ہوں گے۔ تب تک کوئی عارضی حکومت بنے گی۔ یہ امید کم ہے کہ نئے الیکشن کے بعد بلغاریہ میں کوئی بہتری آ جائے کیونکہ معاملہ معیشت کا ہے جو صرف نئے چہرے آنے سے اور "تبدیلی" سے بہتر نہیں ہو سکے گی۔