ویب ڈیسک: ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلم کا حق سلب کر لینا طالبان کی ناقابل برداشت جرم ہے، یہ ایسا جرم ہے جسے برداشت کرنے سے ہم سب کو انکار کرنا ہو گا۔
افغانستان میں سکولوں میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے دن ملالہ یوسف زئی نے افغان بچیوں کے لئے خصوصی خط لکھا ہے، انہوں نے یہ خط خود پڑھ کر سنیا اور اس ویڈیو کلپ کو انسٹا گرام پر پوسٹ کیا ہے۔
انسٹاگرام پر ملالہ یوسف زئی نے اپنی ایک مختصر ویڈیو اپ لوڈ کی ہے۔ اس ویڈیو میں ملالہ نے افغان بچیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے،
آج آپ کو اپنی سکول میں ہونا چاہئے، اپنے ڈیسک پر بیٹھ کر کتاب کھول کر پڑھنا چاہئے اور ان امکانات کا تصور کرنا چاہئے جو آپ کا مستقبل آپ کے لئے لا سکتا ہے۔ ملالہ نے کہا، اس کی بجائے گزشتہ چار سال سے ہو یہ رہا ہے کہ آپ ہر صبح بیدار ہوتی ہیں اس سے بچنے کے لیے جو آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کا مستقبل آپ سے سے وابستہ نہیں ہے۔
ملالہ نے افغان بچیوں کو مخاطب کر کے تاسف کے ساتھ کہا، گزشتہ چار سال سے طالبان آپ کے تعلیم حاصل کرنے کے حق سے انکار کر رہے ہیں۔
ملالہ نے کہا کہ یہ صرف گہری نا انصافی ہی نہیں بلکہ ایک جرم ہے۔ میں اس جرم کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہوں۔ یہ ایسا جرم ہے جسے برداشت کرنے سے ہم سب کو انکار کرنا ہو گا۔
ملالہ یوسف زئی کی افغان لڑکیوں کی تعلم سے وابستگی
سوات کے بہت حد تک جدید معاشرہ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران طالبان کے قاتلانہ حملے کا نشانہ بننے والی پاکستانی سٹوڈنت ملالہ یوسفزئی، نوبل انعام ملنے کے بعد سے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے عملی جدوجہد میں ہیں۔ ان کی جدوجہد کا مرکزی نکتہ مسلم معاشروں میں بچیوں کی تعلیم میں مدد کرنا ہے۔
افغانستان کی بچیاں ملالہ یوسف زئی کی توجہ کا خاص مرکز ہیں۔ انہوں نے افغانستان کی بچیوں کی تعلیم میں مدد کرنے کے لئے فنڈ ریزنگ بھی کی اور لگ بھگ 15 لاکھ ڈالر (42 کروڑ روپے) فنڈز جمع کئے جنہیں ان کا ادارہ افغان لڑکیوں کی تعلیم کے لئے استعمال کرتا رہا ہے۔
افغانستان مین گزشتہ چار سال سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ہے جس نے پاکستان اور دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے خواہشمند شہریوں کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔
پاکستان میں مقیم افغان لڑکیوں کو، خاص طور پر پناہ گزینوں کے طور پر، UNHCR کے تعاون سے چلنے والے تعلیمی پروگراموں اور پاکستانی عوامی تعلیمی نظام میں انضمام کے ذریعے سکول تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ اگرچہ پاکستان کا آئین مہاجرین سمیت تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، یہاں بھی افغان لڑکیوں کو غربت، اپنی ثقافتی روایات اور زبان کی رکاوٹوں کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے۔