ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا حکومت نے کم ازکم اجرتوں کے حوالے سے اعلامیہ جاری کر دیا، جس میں ماہانہ کم ازکم اجرت 40ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیاہے کہ یکم جولائی 2025 سے کم از کم اجرت کا نفاذ ہوگا، جس کا اطلاق غیر ہنر مند، بالغ، نوعمر اور نو عمر مزدوروں پر بھی ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق مزدور کی یومیہ اجرت 1538 روپے 46 پیسے جبکہ ماہانہ کم ازکم اجرت 40ہزار روپے ہوگی، کم از کم اجرت کو زیادہ سے زیادہ اجرت نہیں سمجھا جائے گا۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ مالکان زیادہ ہنر و تجربہ رکھنے والوں کو اضافی اجرت دینے کے مجاز ہوں گے، جبکہ ٹکڑی یا کنٹریکٹ پر کام کرنے والے مزدوروں کو بھی کم از کم اجرت لازمی دینا ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین اور خواجہ سرا مزدوروں کو بھی مردوں کے برابر اجرت ملے گی، تمام صنعتی و تجارتی ادارے نئے نوٹیفکیشن کے تحت اجرت دینے کے پابند ہوں گے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز پنجاب حکومت نے مزدوروں کی کم از کم اجرت 40 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، نوٹیفکیشن کےمطابق مزدوروں کو 26 ورکنگ ڈیز کی کم ازکم اجرت 40 ہزار روپے دی جائے گی۔
وزیر لیبر و افرادی قوت پنجاب ملک فیصل ایوب کھوکھر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ 8 گھنٹے کام کرنے پر 1538.46 روپے اجرت دی جایا کرےگی۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نےکہاکہ پنجاب حکومت مزدوروں کی فلاح و بہبودکے لیے کام کر رہی ہے۔
وزیر لیبر و افرادی قوت پنجاب نے کہاکہ محکمہ لیبر ویلفیئر کم ازکم اجرت کے حکم نامے پر عمل درآمد کرائے اورکم ازکم اجرت پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔